تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 73
’’ جب وہ گھر میں کھانا کھانے بیٹھا تھا توا یسا ہوا کہ بہت سے محصول لینے والے اور گنہگار آکر یسوع اور اُس کے شاگردوں کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے۔فریسیوں نے یہ دیکھ کر اس کے شاگردوں سے کہا۔تمہارا استاد محصول لینے والوں اور گنہگاروں کے ساتھ کیوں کھاتا ہے۔‘‘ ( متی باب ۹ آیت ۱۰ ،۱۱) اس عبارت میں بھی حضرت مسیح کے کھانا کھانے کا وضاحتًا ذکر آتا ہے۔پھر حضرت مسیح خود اپنے متعلق فرماتے ہیں۔’’ ابن آدم کھاتا پیتا آیا۔اوروہ کہتے ہیں دیکھو کھائو اور شرابی آدمی محصول لینے والوں اور گنہگار وں کا یار۔مگر حکمت اپنے کاموں سے راست ثابت ہوئی۔‘‘ ( متی باب ۱۱ آیت ۱۹) اسی طرح لکھا ہے ’’ جب شام ہوئی تو وہ بارہ شاگردوں کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھا تھا اور جب وہ کھا رہے تھے تو اُس نے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم میں سے ایک مجھے پکڑوائےگا۔وہ بہت ہی دل گیر ہوئے اور ہر ایک اُس سے کہنے لگا۔اے خدا وند ! کیا میں ہوں اُس نے جواب میں کہا۔جس نے میرے ساتھ طباق میں ہاتھ ڈالا ہے وہی مجھے پکڑوائےگا۔ابن آدم تو جیسا اُس کے حق میں لکھا ہے جاتا ہی ہے۔لیکن اُس آدمی پر افسوس جس کے وسیلہ سے ابن آدم پکڑ وایا جاتا ہے۔اگر وہ آدمی پیدا نہ ہوتا تو اس کے لئے اچھا ہوتا اس کے پکڑوانے والے یہوداہ نے جواب میں کہا۔اے ربی ّ ! کیا میں ہوں ؟ اُس نے اُس سے کہا تُو نے خود کہہ دیا۔جب وہ کھا رہے تھے تو یسوع نے روٹی لی اور بر کت دے کر توڑی اور شاگردوں کو دے کر کہا۔لو کھائو یہ میرا بدن ہے۔پھر پیالہ لے کر شکر کیا اور اُن کو دے کر کہا۔تم سب اس میں سے پیٔو کیونکہ یہ میرا وہ عہد کا خون ہے جو بہتیروںکے لئے گناہوں کی معافی کے واسطے بہایا جاتا ہے۔میں تم سے کہتا ہوں کہ انگور کا یہ شیرہ پھر کبھی نہ پیٔوںگا اُس دن تک کہ تمہارے ساتھ اپنے باپ کی بادشاہی میں نیا نہ پیٔوں۔‘‘ ( متی باب ۲۶ آیت ۲۰ تا ۲۹) یہ حوالہ بھی بتا رہا ہے کہ حضرت مسیح ؑ اپنے حواریوں کے ساتھ مل کر کھانا کھایا کرتے تھے۔بلکہ بعض دفعہ تو سالن کا ایک ہی پیالہ ہو تا جس میں وہ اور اُن کے شاگرد سب شریک ہوتے۔اسی طرح واقعہ ٔ صلیب کے بعد جب حضرت مسیح ؑ اپنے شاگروں پر ظاہر ہوئے تو لکھا ہے۔