تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 600 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 600

ہے اس لئے ممکن ہے کہ یہ ہمارے ساتھ دھوکاکرجائے اورہمیں کوئی ایسی چیز کھلادے جو ہمارے مذہب میں ناجائزہو۔پس قرآن کریم نے جو اہل کتاب کاذبیحہ کھانے کی اجازت دی ہے وہ بھی اسی لئے ہے کہ و ہ ایک قانون کے پابند ہیں۔حالانکہ وہ سؤر کاگوشت بھی کھاتے ہیں۔مگر مشرک کے ہاتھ کاکھانے کی صرف اس لئے اجازت نہیں دی کہ وہ کسی قانون کا پابند نہیں۔اوراس کو دھوکایافریب دینے سے کوئی چیز روکنے والی نہیں ہے۔ایک اہل کتاب چاہے دنیوی لحاظ سے بااخلاق نہ ہو اس کاکھاناکھانے کی اجازت ہے۔اورمشرک چاہے دنیوی لحاظ سے بااخلاق ہو اس کاکھاناکھانے کی اجازت نہیں۔کیونکہ اہل کتاب کسی نہ کسی قانون کے پابند ہیں۔یہودی تورات کو مانتے ہیں۔عیسائی انجیل کومانتے ہیں اورہندوویدوں کو مانتے ہیں اوران سب کاقانون ا س امر پر متفق ہے کہ کسی کے ساتھ دھوکاکرناجائز نہیں ہے۔اسی لئے شریعت اسلامیہ نے اہل کتاب کو دوسروں سے زائد حقوق دیئے ہیں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء و اجداد چونکہ اچھے شہری تھے اورسوسائٹی کے قانون کے پابند تھے اس لئے انہیں ساجد کہاگیا۔مگر وہ ساجداًللہ نہیں تھے بلکہ ملکی قانون کے ساجد تھے۔اورشریف خاندان رکھتے تھے۔اورانبیاء ہمیشہ شریف اوراعلیٰ خاندانوں میں سے ہی آتے ہیں۔اگر کوئی نبی ادنیٰ اقوام میں سے آجائے (جو سنت اللہ کے خلاف ہے) تولوگ اس کو مان نہیںسکتے۔وہ کہیں گے کہ اس کاخاندان اچھا نہیں ہے۔یایہ غلام ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہی دیکھ لو۔آپ غلام نہ تھے مگر چونکہ کچھ عرصہ آپ نے فرعون مصر کے گھر سے روٹی کھائی تھی اس لئے فرعون نے کہہ دیا کہ یہ وہی ہے جس کو ہم نے روٹیاں کھلا کھلا کر پالا ہے (الشعراء:۱۹)۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو۔عیسائی آج تک آپؐ کے متعلق یہ طعنہ دیتے ہیں کہ آپ لونڈی کی نسل میں سے تھے۔وہ لوگ حضر ت ہاجرہؓ کو لونڈی قرار دیتے ہیں(پیدائش باب ۱۶ آیت ۲)۔حالانکہ تورات سے صاف معلوم ہوتاہے کہ حضرت ہاجرہؓ مصر کے بادشاہ کے رشتہ داروں میں سے تھیں۔اوراس بادشاہ نے انہیں اخلاص کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں تحفۃً پیش کیاتھا مگر عیسائیوں نے صرف اس لئے کہ حضرت ہاجر ہؓ تحفۃً دی گئی تھیں ان کو لونڈی قرار دے دیا۔غرض دشمن توہمیشہ تعصب کی نگاہ سے دیکھنے کا عادی ہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مرسل اعلیٰ اورشریف خاندانوں میں سے آتے ہیں تاکہ لوگوں کے دلوں میں ان کومانتے ہوئے انقباض پیدانہ ہو۔اسی لئے جب ہرقل قیصر روم نے ابوسفیان سے سوال کیا کہ یہ شخص (یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)جو نبوت کادعویٰ کرتاہے۔اس کا خاندان کیسا ہے توابوسفیان نے یہی جواب دیا کہ وہ اچھے خاندان کا ہے اور میرے رشتہ داروں میں سے ہے (بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی)۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس آیت کے