تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 52
خدا آپ ؐ کے ساتھ ہے۔جب سراقہ ؓ لوٹنے لگا تو معًا اللہ تعالیٰ نے سراقہ کے آئندہ حالاتِ زندگی آپ ؐ پر غیب سے ظاہر فرما دئیے۔اور آپ ؐ نے اُسے فرمایا۔سراقہ ! اُس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب شہنشاہ ایران کے سونے کے کنگن تیرے ہاتھ میں ہوںگے۔سراقہ نے حیران ہو کر کہا۔کسریٰ بن ہر مز شہنشاہ ایران کے۔آپ ؐ نے فرمایاہاں ! وہ حیرت و استعجاب کا مجسمہ بن کر واپس چلا آیا۔مگر اللہ تعالیٰ کی شان دیکھو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کسریٰ کا دارالامارۃ مسلمانوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کیا گیا۔اور ایران کے خزانے مسلمانوں کے قبضہ میں آئے جن میں وہ کڑے بھی تھے جو شہنشاہ ایران تخت پر بیٹھتے وقت اپنے ہاتھوں میں پہنا کرتا تھا۔اور جو ہیروں اور جواہرات سے لدے ہوئے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے جب یہ کڑے رکھے گئے تو آپ کو فوراً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی یاد آگئی۔اور آپ نے فرمایا سراقہ کو بلائو۔سراقہ آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کسریٰ کے کنگن لو اور اپنے ہاتھوں میں پہنو۔سراقہ نے کہا اے امیر المومنین ! سونا پہننا تو مردوںکے لئے منع ہے۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔مگر اس موقعہ کے لئے نہیں۔خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے ہاتھوں میں سونے کے کنگن دکھائے تھے اس لئے تمہیں کم سے کم ایک منٹ کے لئے یہ سونے کے کنگن پہننے پڑیں گے تاکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پوری ہو ورنہ میں تمہیں سزا دوںگا۔چنانچہ سراقہ نے وہ کنگن لے کر اپنے ہاتھوں میں ڈالے اور اس طرح مسلمانوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظیم الشان پیشگوئی کو اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھا (اسد الغابۃ سراقۃ بن مالک ؓو السیرۃ الحلبیۃ باب الھجرۃ الی المدینۃ)۔غرض اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ظاہر ی رنگ میں بھی عرب اور عراق اور شام اور ایران کے باغات اور اُن کے محلات کا مالک بنایا اور اس طرح یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ تَبٰرَكَ الَّذِيْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ يَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا۔مگر چونکہ ہر ظاہر اپنے ساتھ ایک باطن بھی رکھتا ہے اس لئے جہاں اس آیت میں ظاہر ی باغات اور محلات کے عطا کئے جانے کی پیشگوئی تھی جو مسلمانوں کے عہد حکومت میں بڑی شان سے پوری ہوئی اور انہوں نے خود بھی اپنی ترقی کے دور میں بڑے بڑے باغات اور محلات بنائے جو اُن کی یاد گار کے طور پر آج بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں۔وہاں اس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روحانی باغ عطا کئے جانے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ یہ تو تجھ سے وہ باغ مانگتے ہیں جو آج سرسبز و شاداب ہوتا ہے تو کل گل سڑ جاتا ہے۔کبھی زمین کی خرابی کی وجہ سے وہ پھل نہیں دیتا کبھی پانی کی کمی اسے خشک کر دیتی ہے۔کبھی بیماریاں اس کے پھلوں کو تباہ کر دیتی ہیں۔کبھی ہوائیں اس کے پھولوں کو گِرا دیتی ہیں۔لیکن ہم تجھے وہ باغات دینے والے ہیں جن کے