تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 534
جو میں نے اس آیت کے کئے ہیں ا ن کی تصدیق اسی آیت کا اگلاحصہ بھی کردیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ مَنْ يَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا۔جو شخص نیکی کا کوئی کام کرتا ہے ہم اس کی نیکی کو اس کےلئے اور زیادہ حسین بنا دیتے ہیں۔اب اگر اس آیت کے معنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں سے تعلقات ِمحبت رکھنا ہوتا تو مَنْ يَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًاکے ذکر کا موقع ہی کیا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔جو شخص نیکیوں میںحصہ لیتا ہے ہم اس کے حسن کو بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔اب اس بات کا بھلا اس سے کیا تعلق ہوسکتا ہے کہ میرے رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرنا لیکن میں نے جو معنے کئے ہیں ان کے لحاظ سے یہ آیت بالکل صاف ہے۔میں نے یہ معنے کئےہیںکہ تمہارا میرے ساتھ بچوں والا تعلق ہونا چاہیے۔جس طرح بچہ بغیر فکر اور بغیر دلیل کے اپنے ماں باپ کی نقل کرتا ہے۔اسی طرح تمہارافرض ہے کہ تم میری نقل کرو۔اس پر سوال پیدا ہوتا تھا کہ بچہ تو عقل کے بغیر نقل کرتاہے پس اگر ہم بھی بچوں کی طرح آپ کی نقل کرتے ہیں اور خود غور اور فکر سے کام نہیں لیتے تو یہ ایک ادنیٰ مقام ہے۔انسان کو تو جو بات ماننی چاہیے وہ علیٰ وجہ البصیرت ماننی چاہیے نہ کہ اندھا دھند۔اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ پہلا درجہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا یہی ہوگا کہ تم ان کی ویسی ہی نقل کرو جیسے بچہ ماں باپ کی نقل کرتاہے مگر مَنْ يَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا (الشوریٰ:۲۴)جو شخص آ پؐ کی نقل کرے گا۔اعمال میں آپؐ کی نقل کرے گا جذبات میں آپ ؐکی نقل کرے گا اقوال میں آپؐ کی نقل کرے گا ،معاملات میں آپ کی نقل کرے گا اور اس طرح نیکیاں اپنے اندر پیدا کرتاچلا جائے گا تو گویہ اوپر کے مقام کی نسبت سے ایک ادنیٰ مقام ہوگا۔مگر جوں جوں اسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ یقین پیدا ہوتا چلا جائے گا کہ آپؐ خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اور وہ آپ کی کامل متابعت کرتارہے گا تو نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا ہم اسے رفتہ رفتہ ایک ایسے مقام پر پہنچا دیں گے کہ اسے اعمال کے متعلق ایک کامل بصیرت حاصل ہوجائے گی۔گویا ہم اسے پہلے درجہ پر ہی نہیں رہنے دیں گے بلکہ براہ راست اس کے دل پر نُورِ نبوت نازل کرکے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت اورآپ ؐ کی کامل فرمانبرداری کے طفیل اسے بصیرت بھی عطا کردیں گے۔پس نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا جو اس آیت کا اگلا حصہ ہے یہ بھی بتا رہا ہے کہ اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبیٰ سے مراد دنیوی سلوک نہیں ورنہ نَزِدْلَہٗ فِیْھَا حُسْنًا کے کوئی معنے ہی نہیںبنتے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پہلے انبیاء بھی اپنی اپنی جگہوں پر لوگوں سے یہی کہتے ہوںگے کہ ہم تمہارے باپ ہیں۔جیساکہ قرآن کریم سے پتہ لگتاہے کہ ہر نبی مومنوں کا باپ ہوتا ہے اور وہ ان کو اس امر کی طرف توجہ دلاتے