تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 523

تفسیر۔انہوں نے لوطؑ کی نصیحتوں سے تنگ آکر اسے دھمکی دی کہ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے اپنے ملک سے نکال دیں گے۔لوطؑ نے کہا! بے شک نکال دو۔میں تمہارے اعمال کو بڑی نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ خدایا مجھ کو اور میرے خاندان کو ان کے برے اعما ل سے بچا ئیو۔اس آیت میں ایک تو یہ سبق دیا گیا ہے کہ عذاب ظاہری سے نجات مانگنی اتنی اہم نہیں جتنی کہ عملِ بد سے نجات مانگنی اہم ہے۔اور دوسرا سبق یہ دیا گیا ہے کہ نفرت ہمیشہ برے اعمال سے رکھنی چاہیے نہ کہ گمراہ اور خطاکار انسان کو بھی قابلِ نفرت سمجھنا چاہیے۔اصلاح اخلاق کے سلسلہ میں یہ ایک نہایت ہی اہم نکتہ ہے جس پر اسلا م نے خصوصیت سے زور دیا ہے اور بد اور بدی میں فرق کیا ہے۔وہ یہ تو کہتا ہے کہ برائی کو دور کرو مگر وہ یہ نہیں کہتا کہ برائی کو دور کرنے کے ساتھ ہی بد کو مٹا ڈالو۔بلکہ وہ ان دونوں میں ایک حد قائم کرتا اور اس کو ملحوظ رکھنے کی تاکید کرتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى(المائدۃ:۳)کسی قوم کی دشمنی تمہاری آنکھوں پر ایسا پردہ نہ ڈال دے کہ تم اس کے متعلق نا انصافی اور ظلم پر اُتر آئو۔تمہارا کا م یہ ہے کہ تم اس کے متعلق بھی عدل و انصاف کی حدود کا خیال رکھو ورنہ تقویٰ کے مقام سے تم اپنے آپ کو گرانے والے ہوگے۔گویا اسلام دشمن کی قابلِ نفرت حرکات سے تو بیزاری کی تعلیم دیتا ہے مگر دشمن کی دشمنی رکھنے سے منع کرتا ہے۔پھر فرماتا ہے لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَ لَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَيْهِمْ(الممتحنۃ :۹) وہ لوگ جو تمہارے دین کے مخالف توہیں مگر تمہیں اپنے مظالم کا تختہ مشق بنا کرتمہیں جبراً اپنے دین سے منحرف کرنے کی کوشش نہیںکرتے۔نہ تمہیں اپنے وطن سے بے وطن کرتے ہیں ان کےساتھ نیکی اور حسنِ سلوک کرنے اور ان کے معاملات میں عدل وانصاف سے کام لینے سے اللہ تعالیٰ تمہیں ہرگز نہیں روکتا تمہارا کام یہ ہے کہ تم ان سے نیکی کرو۔اور ان کے معاملات میں بھی انصاف کا پورا پورا خیال رکھو۔غرض اسلام بنی نو ع انسان کو نصیحت کرتا ہے کہ اگر کسی فر د یا قوم کو تم تقویٰ و طہارت کے خلاف عمل کرتا دیکھو تو اس کے فعل سے تو نفرت کرو مگر اس فرد یا قوم کی خیر خواہی کا جذبہ اپنے دل سے کبھی مٹنے نہ دو۔کیونکہ اگر یہ جذبہ مٹ گیا تو تم ان کی اصلاح سے بھی غافل ہوجائو گے۔حضرت لوط علیہ السلام نے بھی اسی اخلاقی کمال کا مظاہرہ کیا اور فرمایا کہ میں تمہاری اصلاح کے لئے تورات دن کوشش کررہا ہوں لیکن تمہارے گندے افعال سے مجھے شدید نفرت ہے۔اس قدر نفرت کہ میں اللہ تعالیٰ سے بھی دعا کرتارہتا ہوں کہ وہ مجھےبھی اور میرے تمام جسمانی اور روحانی اہل کو بھی ان برائیوں سے محفوظ رکھے مگر تعجب ہے کہ وہی لوط ؑ جن کے اخلاقی کمال کی قرآن کریم نے اس قدر تعریف کی ہے اور جن کے متعلق اس نے