تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 518

نہیں کرتے ان کے پیچھے مت رہو۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم ثمود عاد کی قائم مقام تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ (الاعراف :۷۵)یعنی اس وقت کو یادکرو جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں عاد کے بعد ان کا قائم مقام بنایا۔فتوح اؔلشام کا مصنف ابواسمٰعیل لکھتا ہے کہ ثمود کی قوم بصریٰ سے لے کر جو شام کا ایک شہر ہے عدن تک پھیلی ہوئی تھی اور وہیں ان کی حکومت تھی۔یونانی تاریخوںمیںبھی ثمود کا ذکر آتا ہے اور انہوں نے اس کا ذکر مسیح ؑ کے زمانہ کے قریب کیا ہے اور حجرکو اس کا مرکزی مقام بتایا ہے جو اس قوم کا دارالحکومت معلوم ہوتا ہے۔یہ مقام مدینہ منّورہ اور تبوک کے درمیان تھا۔اور اس علاقہ میں اس قوم کا بڑا زور تھا۔اَتُتْرَكُوْنَ فِيْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيْنَ۔فِيْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍ۔وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيْمٌسے معلوم ہوتا ہے کہ قوم ثمود کا ملک چشموں اور باغات والا تھا۔وہاں کھجوریں بھی اچھی قسم کی ہوتی تھیں اور زراعت بھی خوب ترقی پرتھی۔اسی طرح وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِھِیْنَ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کو سنگ تراشی میں کمال حاصل تھا۔چنانچہ پرانے آثار سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ شہروں کے شہر پہاڑوں کی کھوہ میں بناتے چلے گئے تھے۔حتّٰی کہ بعض جگہ انہوں نے پتھر کاٹ کاٹ کر عجیب و غریب محل بنا لئے تھے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ اس کے سوا اُن کے اور کسی قسم کے مکان نہیں ہوتے تھے بلکہ اس سے ان کی خاص عمارتوں کی طرف اشارہ ہے جس سے ان کے تمدن کی ترقی ظاہر ہوتی ہے۔اسی طرح پہاڑ کھود کھود کر اپنی رہائش کے لئے مکانات اور شہر بنانے میں اس طرف بھی اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم سال کا کچھ حصہ پہاڑوں پر سیرو تفریح کے لئے بسر کرتی تھی مگر اس کے باوجود کسی کو ان کے ملک پرحملہ کرنے کی جرأت نہیںہوتی تھی۔اس قوم نے بھی حضرت صالح ؑ کا انکار کیا اور ان کی باتوں پر کان نہ دھرا۔چنانچہ حضرت صالح ؑ کے سمجھانے پر اس قوم نے جو جواب دیا اس کا قرآن کریم اگلی آیات میں ذکر فرماتا ہے۔قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ۠ۚ۰۰۱۵۴مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ اس پر وہ (لو گ جو کافر تھے )بولے۔تجھ کو صرف کھانا دیا جاتا ہے۔تُو ہماری طرح کا ایک آدمی ہے۔مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰيَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۰۰۱۵۵قَالَ پس اگر تو سچاہے توکوئی نشان ظاہر کر۔اُس نے کہا۔یہ ایک اونٹنی ہے ایک دن