تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 517

هَضِيْمٌۚ۰۰۱۴۹وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَۚ۰۰۱۵۰ اور لہلہاتے کھیتوں میں اور کھجوروںمیں جن کے پھل بوجھ کی وجہ سے ٹوٹے جارہے ہوں۔اور تم لوگ پہاڑ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوْنِۚ۰۰۱۵۱وَ لَا تُطِيْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِيْنَۙ۰۰۱۵۲ کھودکھود کر (اپنی بڑائی پر) اِتراتے ہوئے گھر بناتے ہو۔پس اللہ کا تقویٰ اختیارکرو اور میری اطاعت کرو۔الَّذِيْنَ يُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَ لَا يُصْلِحُوْنَ۰۰۱۵۳ اور حد سے بڑھ جانے والے لوگوں کی باتوں کو مت مانو۔وہ لوگ جو ملک میں فساد کرتے ہیںاور اصلاح نہیں کرتے۔حلّ لُغَات۔طَلْعٌ۔طَلْعٌ مِّنَ النَّخْلِ کے معنے ہیں شَیْءٌ یَخْرُجُ کَاَ نَّہٗ نَعْلَانِ مُطْبَقَانِ۔کھجور کا خوشہ جس کے اندر پھل پیدا ہوتا ہے (اقرب) ھَضِیْمٌ۔نَخْلٌ طَلْعُھَاھَضِیْمٌ دَاخِلٌ بَعْضُھَا فِیْ بَعْضٍ کَاَنَّمَا شُدِخَ۔وہ خوشہ جس کا ایک حصہ دوسرے کے اندر داخل ہو(اقرب) تَنْحِتُوْنَ۔تَنْحِتُوْنَ نَحَتَ سے مضارع جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور نَحَتَ الْحَجْرَ کے معنے ہیں سَوَّاہُ وَاَصْلَحَہٗ پتھر کو گھڑ کر ٹھیک کیا۔اور نَحَتَ الْجَبَلَ کے معنے ہیں حَفَرَہٗ۔پہاڑ کو کھودا (اقرب)پس تَنْحِتُوْنَ کے معنے ہوں گے۔تم کھودتے ہو۔فَارِھِیْنَ۔فَارِھِیْنَ فَارِہٌ سے جمع کا صیغہ ہے اور اَلْفَارِہُ کے معنے ہیں اَلْحَاذِقُ بِالشَّیْ ءِ۔کسی کام کا ماہر (اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔عادکے بعد ثمود کی قوم آئی اور ان میں صالح ؑ نبی آیا۔اس نے بھی اپنی قوم کو تقویٰ کی نصیحت کی۔اور بتایاکہ میں تم سے اس تعلیم کے بدلہ میں کچھ مانگتا نہیں۔میری مزدوری میرا خدا دے گا۔تم جن مادی ترقیات پر خوش ہو وہ قائم نہیں رہیں گی۔نہ یہ باغات رہیں گے۔نہ چشمے۔نہ کھیتیاں۔نہ کھجوریں جن کے خوشے ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑتے ہیں۔تم لوگ بڑے فخر سے پہاڑ کھود کھودکر مکان بناتے ہو مگر عزت حاصل کرنے کا یہ طریق نہیں۔عزت حاصل کرنے کا طریق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو اور جو لوگ حد سے نکل جانے والے ہیں اُن کی فرمانبرداری مت کرو۔اسی طرح وہ لوگ جو زمین میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح