تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 513

وَ اتَّقُوا الَّذِيْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَ۔اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِيْنَ۔وَ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍ۔اِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۔فرمایا آخر یہ علم جس تم دنیا میں ترقی کر رہے ہو خدا تعالیٰ کے ہی دیئے ہوئے ہیں اور وہ سامان جن سے تم کام لیتے ہو وہ بھی خدا تعالیٰ ہی کے دیئے ہوئے ہیں۔اسی طرح جانور بھی اور اولاد بھی اور باغات بھی۔اور چشمے بھی سب اسی کی عطا ہیں۔اگر تم اس کی طرف توجہ نہ کرو گے تو کسی دن یہ سب کچھ چھینا جائےگا۔قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَيْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ انہوں نے کہا تیرا وعظ کرنا یا نہ کرنا ہمارے لئے برابر ہے (کیونکہ جو باتیں ہم کرتے ہیں)۔وہ تو پہلے الْوٰعِظِيْنَۙ۰۰۱۳۷اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِيْنَۙ۰۰۱۳۸وَ مَا نَحْنُ زمانہ کے لوگوں سے رائج ہیں۔اور ہم پر (کبھی) عذاب نہیں آئے گا۔پس ان کافروں نے ان کو جھٹلادیا بِمُعَذَّبِيْنَۚ۰۰۱۳۹فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ۠١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ اور ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔اس واقعہ میں ایک بہت بڑا نشان ہے لیکن ان میںسے وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۰۰۱۴۰وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ اکثر مومنوں میں سے نہ بنے۔اور تیر ارب یقیناً غالب الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُؒ۰۰۱۴۱ (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔تفسیر۔حضرت ہود علیہ السلام نے جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ دلائی تو انہوں نے کہا۔میاں ایسی نصیحتیں کرو یا نہ کرو ہم نے ماننا تو ہے ہی نہیں۔پہلے زمانوں سے ایسے لوگ ہوتے چلے آئے ہیں جو کہتے تو رہے ہیں کہ زیادہ دولتیں نہ کمائو اور دولتوں کا گھمنڈ نہ کرو۔مگر پھر بھی یہ دنیا کام کرتی ہی چلی آئی ہے۔ہم کو کارخانے بنانے اور دولتیں کمانے پر کوئی عذاب نہیں ہوگا۔اس لئے خواہ تم ہمیں تبلیغ کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یہ برابر ہے اور ہم کبھی تمہاری بات نہیں مان سکتے۔حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی انسان سرکشی اور تمرد میں بڑھ جائے تو اسے نیکی کی طرف توجہ دلانا بڑ ا کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔لیکن اس مشکل کو تسلیم کرنے کے باوجود قرآن کریم نے مسلمانوں کو یہی ہدایت دی ہے