تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 486
جب وہ خراب ہوجاتا ہے تو سارا انسانی جسم خراب ہو جاتا ہے۔پھر فرمایا اَلآوَھِیَ الْقَلْبُ (بخاری کتاب الایمان باب فضل من إستبرألدینہ)سنو !وہ گوشت کا لوتھڑا دل ہے۔بعض لوگوں نے خصوصاً اس زمانہ کے سائینسدانوں اور تشریح الابدان والوں نے کہا ہے کہ وہ چیز جو انسانی اعمال،افعال اور ارادوں اور خواہشات کو مضبوط کرتی ہے اور انہیں ایک نظام کے نیچے لاتی ہے وہ دل نہیں بلکہ دماغ ہے۔اور سائینس والوں سے ڈرکر بعض مسلمان علماء نے بھی قرآن کریم کی بعض آیات کی ایسی تفسیر شروع کردی ہے جس سے یہ نکلتا ہے کہ قلب سے مراد قلبِ انسانی نہیں بلکہ اس سے مراد محض وہ مقام ہے جو انسانی جسم پر حکومت کرتا ہے چاہے وہ دماغ ہی ہو۔لیکن میرے نزدیک یہ توجیہہ محض ڈر کی وجہ سے کی گئی ہے۔ورنہ جہاں تک قرآن کریم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے میرے نزدیک قلب سے مراد وہی چیز ہے جو سینہ میں ہوتی ہے اور اس چیز کو دماغ قراردینا محض دھینگا مُشتی ہے۔بہرحال اس حدیث سے ظاہر ہے کہ انسانی اعمال کی صفائی دل کی صفائی کے ساتھ وابستہ ہے۔تم اپنے ہاتھو ں کی صفائی کرکے پاک نہیں ہوسکتے۔تم اپنے منہ کی صفائی کرکے پاک نہیں ہوسکتے تم اپنے سر کی صفائی کر کے پاک نہیں ہو سکتے۔کیونکہ پاکیزگی کا منبع دل ہے۔لیکن اگر تم اپنے دل کی صفائی کرلو تو اللہ تعالیٰ کے حضور تم ایک مطمئن دل لے حاضر ہو گے۔ہمار اخالق اور مالک جس نے مخلوق کو پاکیزگی کے حصول کےلئے پیدا کیا ہے اس کے نزدیک سب سے مقدم دلوں کی پاکیزگی ہی ہے۔کیونکہ تقویٰ کا درخت صرف اسی زمین میں پرورش پاسکتا ہے جو پاک اور صاف ہو۔ناپاک دل اس کی صفات کا جلوہ گاہ نہیں ہوسکتا اور نہ ناپاک ہاتھ اس کے عرش کے پائے کو چھو سکتے ہیں۔وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَۙ۰۰۹۱وَ بُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ اور جس دن جنت متقیوں کے قریب کردی جائے گی۔اور گمراہوں کےلئے دوزخ پر سے پردے لِلْغٰوِيْنَۙ۰۰۹۲وَ قِيْلَ لَهُمْ اَيْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ۰۰۹۳ اٹھا دیئے جائیں گے۔اور کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کی تم اللہ کے سواکے عبادت کرتے تھے۔مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ يَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ يَنْتَصِرُوْنَؕ۰۰۹۴ کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں ؟یا تمہارا بدلہ لے سکتے ہیں ؟پس اس وقت وہ (جھوٹے معبود اور کافر) اور گمراہ