تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 480

صاحب بریلوی ؒ بھی بیشک مجدّد تھے۔مگر وہ ساری دنیا کے لئے نہیں تھے۔بلکہ صرف ہندوستان کے مجدّد تھے۔اگر کہا جائے کہ وہ ساری دنیا کے مجدّد تھے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے عرب کو کیا ہدایت دی انہوں نے مصر کو کیا ہدایت دی انہوں نے ایران کو کیا ہدایت دی ،انہوں نے افغانستان کو کیا ہدایت دی۔ان ملکوں کی ہدایت کےلئے انہوں نے کوئی کام نہیں کیا لیکن اگر ان ممالک کی تاریخ دیکھی جائے تو ان میں بھی ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو صاحبِ وحی اور صاحبِ الہام تھے اور جنہوں نے اپنے ملک کی راہنمائی کا فرض سرانجام دیا پس وہ بھی اپنی اپنی جگہ مجدّد تھے اور یہ بھی اپنی جگہ مجدّد تھے۔فرق صرف یہ ہے کہ کوئی بڑا مجدّد ہوتا ہے اور کوئی چھوٹا۔ہندوستا ن میں آنے والے مجدّدین کی اہمیت اس لئے ہے کہ وہ اس ملک میں آئے جہاں مسیح موعود نے آنا تھا۔اور اس طرح ان کا وجود حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے بطور ارہاص تھا۔ورنہ ہمار ا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ صرف یہی مجدد ہیں باقی دنیا مجدّدین سے خالی رہی ہے ہر شخص جو الہام کے ساتھ تجدیدِ دین کا کام کرتا ہے وہ روحانی مجدّد ہے۔ہرشخص جو اسلام اور مسلمانوں کے لئے تجدید کا کوئی کام کرتا ہے وہ مجدّد ہے۔چاہے وہ روحانی مجدّد نہ ہو۔جیسے میں نے کئی دفعہ مثال دی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک دفعہ فرمایا کہ اورنگ زیبؒ بھی مجدّد تھا۔حالانکہ اورنگزیبؒ کو خود الہام کا دعویٰ نہیں تھا۔تو نبی کے فیوضِ روحانی کا زمانہ نبی کی زندگی میں ہی شامل ہوتا ہے اور اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو فترت کا زمانہ بہت قلیل رہ جاتاہے۔گو بعض ممالک ایسے بھی ہیں جن پر فترت کا زمانہ کسی قدر لمبا نظر آتا ہے مگر ان ممالک کے ارد گرد بھی روحانی فیوض کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے برابر جاری تھا۔جیسے عرب کا ملک ہے۔اس پر فترت کا ایک لمبا دور آیا۔گو بعض لوگ کہتے ہیں۔اس عرصہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے بعض انبیاء ان میں مبعوث ہوئے۔چنانچہ سنان بن خالد کے متعلق کہا جاتاہے کہ وہ بھی نبی تھے (البدایۃ و النھایۃ لدمشقی جزء الثانی فصل تفویض قصی امر الو ظائف لابنہ عبدالدار ،ذکر جماعۃ مشھورین فی الجاھلیۃوالسیرۃ الحلبیۃ باب یذکر فیہ ما یتعلق بالوفود)اور اگر اس کو تسلیم کیا جائے تو اس طرح عرب پر بھی زمانہء فترت زیادہ عرصہ تک نہیں رہتا۔لیکن اگر مان بھی لیا جائے کہ ملک عرب پر فترت کا دور لمبے عرصہ تک رہا تو بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ اہلِ عرب کے دائیں اور بائیں ایسے لوگ مبعوث ہوتے رہے تھے جو خدا تعالیٰ کی طرف لوگوں کو بلاتے اور نشانات کے ذریعہ اس کی ہستی کا ثبوت پیش کرتے۔آخر یہ کوئی ضروری نہیں تھا کہ اہلِ عرب پر کسی ایسے نبی کے ذریعہ ہی اتمام حجت کی جاتی جو ان میں سے ہوتا۔جب دائود ؑ کے ذریعہ خدا ان پر ظاہر ہورہاتھا جب سلیمانؑ کے ذریعہ خدا ان پر ظاہر ہورہاتھا۔جب عیسیٰ ؑ کے ذریعہ خدا ان پر ظاہر ہورہاتھاجب یحییٰ ؑ کے ذریعہ خدا ان پر ظاہر ہورہا تھا۔جب ذوالقرنین کے ذریعہ