تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 42
معمولی طور پر نہیں پکڑا بلکہ ایک غالب اور قادر کی حیثیت سے پکڑا۔بعض لوگ گرفت تو کرتے ہیں مگر دشمن ان کی گرفت سے نکل جاتا ہے۔لیکن فرماتا ہے ہماری گرفت ایسی تھی کہ ایک تو اس گرفت سے کوئی نکل نہیں سکتا تھا اور دوسرے ہماری سزا ایسی تھی جس سے کوئی بچ نہیں سکتا تھا۔اور پھر اس میں رحم کا جزو بھی پایا جاتا تھا کیونکہ مقتدر آدمی جو جانتا ہے کہ میں ہر وقت سزا دے سکتا ہوں کبھی ایسی سختی نہیں کرتا جو ناقابلِ برداشت ہو کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ میں پھر بھی عذاب دے سکتا ہوں۔گورنمنٹیں سزا دیتی ہیں تو بعض لوگ ان سزائوں سے بچ بھی جاتے ہیں وہ پھانسی کی سزا دیتی ہیں تو بعض لوگ جیل والوں سے مل جاتے ہیں اور وہ انہیں زہر مہیا کر دیتے ہیں یا اپنے رشتہ داروں کے ذریعہ سے زہر منگوا لیتے ہیں اور وقت سے پہلے زہر کھا کر مر جاتے ہیں۔دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب جرمنی کو شکست ہوئی اور گوئر نگ پکڑا گیا تو بڑی شان سے اعلان کیا گیا کہ ہم فلاں دن گوئرنگ کو پھانسی پر لٹکائیں گے اور سمجھا گیا کہ اس کا لوگوں پر بڑا اثر ہوگا۔اور وہ سمجھیں گے کہ جرمن بڑے ذلیل ہوئے ہیں لیکن جب پھانسی دینےکے لئے وہ اس کے کمرہ میں گئے تو دیکھا کہ وہ مرا پڑا تھا۔معلوم ہو اکہ کسی نہ کسی طرح جرمنوں نے اندر زہر پہنچا دیا۔اور وہ کھا کر مر گیا (Encyclopedia of the Second World War p 172 underword Goring) تو انہوں نے پکڑا تو سہی مگر جو ارادہ تھا کہ ہم اُسے سزا دیں گے ا س میں وہ کامیاب نہ ہوئے گویا یہ اَخْذَ عَزِیْزٍ تو تھا مگر اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ نہیں تھا۔یعنی پکڑ تو لیا مگر جس قسم کی سزاد ینا چاہتے تھے اُس میں ناکام ہو گئے۔پھر بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ لوگ سزا سے بھی پہلے نکل جاتے ہیں۔جیل خانوں سے لوگ بھاگ جاتے ہیں ہتھکڑیاں لگنے سے پہلے فرار اختیار کر لیتے ہیں۔اور پھر بعض دفعہ قریبًا ساری عمر نہیں پکڑے جاتے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیوی حکومتوں میں یہ دو باتیں ہوا کرتی ہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مجرم بھاگ جاتا ہے لیکن ہم ایسا پکڑتے ہیں کہ وہ بھاگ نہیں سکتا۔پھر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ گورنمنٹ پکڑ تو لیتی ہے مگر اُسے سزا نہیں دے سکتی۔وہ پھانسی کی سزا تجویز کرتی ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کا ہارٹ فیل ہو جاتا ہے اور وہ پھانسی دینے میں کامیاب نہیں ہوسکتی لیکن ہم نے اُسے اس طرح پکڑاکہ وہ بھاگ نہ سکا اور پھر جو سزا تجویز کی وہ اُسے مل کر رہی۔اس ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِّنْ اُولٰٓىِٕكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ اے مکّہ والو! تم بتائو تو سہی کہ وہ جو موسیٰ ؑ کے منکر تھے کیا تم اُن سے بہتر ہو۔اگر موسیٰ ؑ کے منکروں کو سزائیں ملی تھیں تو تم کیا سمجھتے ہو۔آیا یہ کہ تمہیں سزا نہیں دی جا سکتی یا یہ کہ خدائی کتابوں میں تمہارے متعلق کوئی ضمانت آئی ہوئی ہے کہ ہم مکہ والوں کو کچھ نہیں کہیں گے۔بیشک خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ تو کیا ہے کہ وہ خانہ کعبہ کی حفاظت کر ےگا۔مگر اس نے یہ کہیں نہیں کہا