تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 414
قربانی قبول کرلی اور دوسرے کی ردّ کردی۔ایک کے پیچھے اخلاص اور تقویٰ تھا اس لئے اس کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قربانی کے پیچھے چونکہ اخلاص اور تقویٰ نہیں تھا اس لئے وہ رد ہوئی۔اب دانائی تو یہ تھی کہ دوسرا شخص جس کی قربانی قبول نہیں ہوئی تھی وہ اپنے اند رتقویٰ۔عجز اور انکسار پید اکرتا اور سمجھتا کہ اس کی قربانی خدا تعالیٰ نے رد کی ہے اس کے بھائی کی وجہ سے رد ّ نہیں ہوئی مگر وہ لٹھ لے کر اپنے بھائی کے پاس پہنچا اور اسے کہا کہ میں تجھے قتل کردوں گا۔مگر اس کے بھائی نے دلیل والا طریق اختیار کیا اور کہا کہ قربانی قبول کرنا خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اگر تجھے اس بات پر غصہ آیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تیری قربانی قبول کیوں نہیں کی تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔میں تو اپنے آپ کو ایک عاجز بندہ سمجھتا ہوں۔یہ فطرت پرانے زمانہ کی تھی اس وقت نہ ڈکٹیٹرشپ کے الفاظ تھے نہ جمہوریت کے مگر وہ رو ح موجو دتھی جس سے یہ دونوں چیز یں پیدا ہوتی ہیں۔یہ روح جب سے حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے ہیں یا دنیا پید اہوئی ہے متوازی چلی آرہی ہے۔دنیا میں ایک طبقہ ایسا چلا آیا ہے جو ہمیشہ حق و انصاف کا قائل ہوتا ہے اور دوسرا اپنے زور اور طاقت پر فخر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بہرحال ہم نے اپنی مرضی پوری کرنی ہے۔اگر لوگ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلیںگے تو ہم حکومت جتھہ اور طاقت سے دوسروں کو سیدھا کردیں گے اور اپنی مرضی چلائیں گے۔انبیاء کی جماعتیں چونکہ ابتداء میں ہمیشہ چھوٹی ہوتی ہیں اور بعض دفعہ تو ان کی تعداد اتنی قلیل ہوتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بعض انبیاء کو صر ف ایک ایک شخص نے مانا۔(بخاری کتاب الطب باب مَنْ لَّمْ یَرْقِ)۔اس لئے ہر شخص ان پر مذاق اڑاتا ہے اور ان کے دعووںکو ایک مجنونانہ بڑسے زیادہ حقیقت نہیں دیتا۔فرعون نے بھی اسی گھمنڈ میں شہربشہر اپنے ڈھنڈورچی بھیجے اور ان سے کہا کہ جاؤ اورلوگوں کو یہ کہہ کر اشتعال دلائو کہ بنی اسرائیل جو ایک حقیر سی جماعت ہیں ہمیں اشتعال دلا رہے ہیں حالانکہ ہم ایک بڑی زبردست اکثریت ہیںاور پھر بڑے محتاط اور دور اندیش اور ہر قسم کے سازو سامان اور اسلحہ سے لیس ہیں۔ہمار افرض ہے کہ ہم اُن لوگوں کو سختی سے کچل دیں اوران پر ترقی کے تمام دروازے بند کردیں۔فَاَخْرَجْنٰهُمْ۠ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍۙ۰۰۵۸وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ تب ہم نے اُن (یعنی فرعون اور اُس کی جماعت )کو باغوں اور چشموں اور خزانوں اور عزت والے ملک سے كَرِيْمٍۙ۰۰۵۹كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَؕ۰۰۶۰ نکال دیا (یعنی محروم کردیا)ایسا ہی ہوا۔اور ہم نے اُن (چیزوں)کا وارث بنی اسرائیل کو کردیا۔پھر صبح