تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 377

وقوع پذیر ہوگیا۔پھر یہ واقعات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی نہیں ہوئے بلکہ بعد میں بھی اللہ تعالیٰ ایسے نشانات ظاہر کرتا رہاہے۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ خطبہ پڑھا رہے تھے کہ خطبہ پڑھاتے پڑھاتے آپ نے بلند آواز سے فرمایا۔یَا سَارِیَۃُ الْجَبَلَ۔اے ساریہ پہاڑ کے دامن میں پناہ لو۔اور یہ فقرہ آپ نے دو تین مرتبہ دہرایا وہ لوگ جو خطبہ سن رہے تھے۔سخت حیران ہوئے کہ حضرت عمرؓ نے یہ کیا کہہ دیا ہے بلکہ بعض منافقوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ عمرؓ پاگل ہوگیا ہے کہ اُس نے خطبہ پڑھتے پڑھتے یہ بے جوڑ بات کہہ دی کہ یَا سَارِیَۃُ الْجَبَلَ اے ساریہ تو پہاڑ کے دامن میں چلا جا۔جب لوگو ں میں چہ میگوئیا ں ہونی شروع ہوئیں تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ لوگ آپ کے متعلق مختلف قسم کی باتیں کررہے ہیں اور وہ حیران ہیں کہ آپ نے آج خطبہ میں یہ کیا کہہ دیا کہ یَا سَارِیَۃُ الْجَبَلَ۔آپ نے فرمایا۔میں خطبہ پڑھ رہا تھا کہ کہ اچانک مجھ پر کشفی حالت طاری ہوئی اور عراق کی سرزمین میرے سامنے آگئی اور میںنے دیکھا کہ ساریہ جو اسلامی جرنیل ہے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن فوج سے برسرِ پیکار ہے مگر دشمن فوج کا پلّہ بھاری ہے اور قریب ہے کہ اسلامی فوج شکست کھاجائے۔میں نے جب یہ نظارہ دیکھا تو چونکہ اُس وقت میدانِ جنگ کا سب نقشہ میری آنکھوں کے سامنے تھا۔میں نے بلند آواز سے ساریہ ؔسے کہا کہ اے ساریہ! پہاڑ کی طرف ہوجائو تاکہ تم دشمن کے حملہ سے بچ سکو۔چند دن کے بعد میدانِ جنگ سے حضرت عمر ؓ کوساریہؔکا خط پہنچا۔تواس میں لکھا تھا کہ جمعہ کے دن صبح کی نماز کے وقت ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی۔اور ہم اُن سے لڑتے چلے گئے یہاں تک کہ جمعہ کی نماز کا وقت آگیا۔اُس وقت اچانک ہمارے کانوں میں آپ کی یہ آواز آئی کہ یَا سَارِیَۃُ الْجَبَلَ یَا سَارِیَۃُ الْجَبَلَ اور ہم فوراًمیدان چھوڑ کر پہاڑ کی طرف آگئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح دی اور دشمن شکست کھاگیا۔(تاریخ الخمیس کرامۃ عمررضی اللہ عنہ) اب دیکھو اسلامی افواج مدینہ سے سینکڑوں میل دور ہیں۔اور حضرت عمرؓ مدینہ میں بیٹھے ہیں۔مگر جب آپ پر کشفی حالت طاری ہوئی تو نہ صرف آپ کی آواز کو اُن لوگوں نے سنا جو اُس وقت خطبہ میں شریک تھے بلکہ سینکڑوں میل دور عراق کی سرزمین میں ساریہ اور اُس کے سپاہیوں نے بھی سن لی اور انہوںنے فوراً اس کی تعمیل کی جس کے نتیجہ میں اسلامی فوج تباہی سے بچ گئی اور دشمن شکست کھا گیا۔یہ مثال اس حقیقت کو نہایت وضاحت سے ثابت کرتی ہے کہ بعض دفعہ کشوف کے دائرہ کو ایسا وسیع کردیا جاتا ہے