تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 369
خدا قراردے رہاہے۔خدا تو کئی ہیں مگر یہ شخص کہتا ہے کہ صرف ایک ہی خدا ہے۔پس ان کی نگاہ میں آپ کی یہ بات نعوذباللہ ایک پاگلانہ بڑ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا اس لئے بھی پاگل کہتی کہ آپؐ فرماتے تھے۔شراب نہ پیو۔جُوا نہ کھیلو۔اوردوسروں کے مال نہ لوٹو۔عرب کے لوگ کہتے تھے۔یہ کیسا آدمی ہے جو شراب سے منع کرتا ہے جو زندگی کا سرور ہے اورجُوا کھیلنے اور مال لوٹنے سے منع کرتا ہے جو ایک فائدہ مند کام ہے۔اس کی یہ باتیں تو پاگلوں والی باتیں ہیں۔اسی طرح وہ کہا کرتے کہ محمد رسول اللہ کو کیا ہوگیا ہے کہ ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم اپنی زندگیوں کو بنی نوع انسان کی خدمت میں لگا دو۔اپنے مالوںکو خدا کی راہ میں خرچ کروتو تمہیں ثواب ملے گا۔یہ تو پاگلوں والی بات ہے۔حضرت شعیبؑ جب لوگوں سے کہتے کہ تم دوسروں کا مال نہ لوٹو۔اپنے مال کو ناجائز کاموں میں صرف نہ کرو۔تو آپ کی باتوں سے آپ کی قوم حیران ہوتی تھی اور کہتی تھی کہ شعیب پاگل ہوگیا ہے۔اور دیوانوں کی سی باتیں کرتا ہے۔اس زمانہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو لوگوں نے پاگل کہا۔جب آپ نے وفات مسیح ؑ کا مسئلہ دنیا کے سامنے پیش کیا تو مسلمان سمجھ ہی نہ سکے کہ جب ۱۳۰۰سال سے یہ مسئلہ امت محمدیہ کے اکابر پیش کرتے چلے آرہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں تو وہ فوت کس طرح ہوگئے۔لوگوں کو اس مسئلہ کے متعلق جس قدر یقین اور وثوق تھا وہ اس واقعہ سے اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے کہ پنجاب کے ایک مشہور طبیب جن کی طبی عظمت کے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ جیسے طبیب بھی قائل تھے۔اورجن کانام حکیم اللہ دین تھا اوربھیرہ کے رہنے والے تھے ایک دفعہ ان کے پاس مولوی فضل دین صاحب بھیروی جو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے گہرے دوست اورنہایت مخلص احمد ی تھے گئے۔اورانہیںکچھ تبلیغ کی۔وہ باتیں سن کرکہنے لگے۔میاں تم مجھے کیاتبلیغ کرتے ہو تم بھلاجانتے ہی کیا ہو اورمجھے تم نے کیا سمجھاناہے مرزا صاحب کے متعلق توجومجھے عقیدت ہے اس کادسواں بلکہ بیسواں حصہ بھی تمہیں ان سے عقید ت نہیں ہوگی۔مولوی فضل دین صاحب یہ سن کر بہت خو ش ہوئے اورانہوں نے سمجھا کہ شاید یہ دل میں احمدی ہیں۔اس لئے انہوں نے کہا۔ا س بات کو سن کر مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ آپ کو حضرت مرزا صاحب سے عقیدت ہے اورمیں خوش ہوں گااگر آپ کے خیالات سلسلہ کے متعلق کچھ اَوربھی سنوں۔وہ کہنے لگے۔آجکل کے جاہل نوجوان بات کی تہ تک نہیں پہنچتے اوریونہی تبلیغ کرنے کے لئے دوڑ پڑتے ہیں۔اب تم آگئے ہو مجھے وفات مسیح کامسئلہ سمجھانے۔حالانکہ تمہیں معلوم ہی کیا ہے کہ مرزا صاحب کی اس