تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 366

یہ واقعہ جس کی طر ف فرعون نے اشار ہ کیا وہی ہے جس کااوپر ذکر کیاجاچکا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک رات ایک قبطی کو دیکھا کہ وہ ایک اسرائیلی سے لڑرہاہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس سے گذرے تواسرائیلی نے حضرت موسیٰ ؑکو دیکھ کرانہیں اپنی مدد کے لئے پکارا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی سمجھا کہ اگر میں نے اسرائیلی کی مدد نہ کی تووہ ماراجائے گا چنانچہ انہوں نے آگے بڑھ کر قبطی کو ایک گھونسامارا۔اب یاتوجوش کی حالت میں وہ گھونسازیادہ زور سے مار بیٹھے یااس کادل کمزور تھا گھونساکے لگتے ہی وہ مرگیا۔اس واقعہ کافرعون انہیں طعنہ دیتاہے اورکہتاہے کہ ہم نے توتجھے بچوں کی طرح پالااورتونے ہمارے ہی آدمی کو ماردیا۔اورناشکری کا نمونہ دکھایا۔حضر ت موسیٰ علیہ السلام اسے جواب دیتے ہیں کہ پہلے سب حالات پر غور کر و اورپھر الزام لگائو۔یہ تودرست ہے کہ میرے ہاتھ سے ایک آدمی ماراگیا لیکن سوال یہ نہیں کہ آدمی ماراگیایانہیں۔سوال یہ ہے کہ آیامیرااسے مارنے کا ارادہ تھایانہیں۔اگرحالات سے یہ ظاہرہوتاہے کہ یہ واقعہ ایساتھا جس میں فوری مدد کی ضرورت تھی۔توایسی حالت میں اگرمیں نے اپنی قوم کے ایک مظلوم فرد کی مدد کی توگو اتفاقی طورپر ایک آدمی مربھی گیا۔لیکن پھر بھی میں قصوروار کس طرح ہوا۔میراقصور توتب ہوتا جب میں جانتے بوجھتے ہوئے محض قتل کرنے کی نیت سے اس پر حملہ کرتا۔مگر جبکہ میراارادہ اسے قتل کرنے کا تھا ہی نہیں تواگر نادانستہ طور پر ایک آدمی مرگیا تویہ بات مجھے مجرم بنانے والی کس طرح ہوگئی۔مگر بہرحال چونکہ میں نے ایک مظلوم قوم کے فرد کی حمایت کی تھی۔اورحاکم قوم کاایک فردماراگیا تھااس لئے مجھے ڈرپیداہواکہ میرے معاملہ میں انصاف سے کام نہیں لیاجائے گااورمجھے سزادینے کی کوشش کی جائے گی۔چنانچہ میں تمہارے ملک کوچھوڑ کربھاگ گیا مگر میرے رب نے جو میرے دلی خیالات کوجانتاتھا۔مجھے بر ی قرار دیا اورمجھے شریعت عطافرمائی اورمجھے اپنارسول بناکرکھڑاکردیا۔باقی رہاوہ احسان جو توجتارہاہے کہ ہم نے تجھے پالا۔سوکیا یہ احسان اس جرم کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت رکھتاہے کہ تم نے اپنے باپ رعمسیس ثانی کے زمانہ سے سارے بنی اسرائیل کو اپنی غلامی میں جکڑ رکھا ہے اور تم انہیں بے گار میں پکڑ کر ان سے بڑے بڑے مشقت طلب کام لیتے ہو۔اوران پرایسے ایسے مظالم ڈھاتے ہو جونہایت شرمناک ہیں اگر اتنے لمبے عرصہ تک ایک قوم کے مردوں اور عورتوں اور بچوںسے ظالمانہ خدمت لینے کے بعد اس قوم کا ایک بچہ تم نے پال دیا توکیا غضب کیا۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جس فرعون نےپالا تھا اُس کا نا م رعمسیسؔ تھا (خروج باب ۱ آیت ۸ تا ۱۷)۔مگر دعوی نبوت کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جس فرعون کے پا س جانا پڑا وہ اُس کا بیٹا منفتاحؔ تھا ( JEWISH ENCYCLOPEDIA زیرلفظ Merneptah )۔چونکہ وہ بچپن سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنے گھروں میں پرورش پاتے دیکھتا رہا تھا اور جانتا تھا کہ اس کے باپ نے کس محبت کےساتھ موسیٰ ؑکی پرورش کی اس لئے اس نے اپنے باپ کے اس سلوک کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا کیا ہم نے تجھے اپنے گھروں میں نہیں پالا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کے جواب میں اُسی رعمسیس ؔ کے ان مظالم کا ذکر شروع کردیا جو وہ اپنی زندگی میں بنی اسرائیل پر ڈھاتا رہا۔یہاں تک کہ اس نے حکم دے دیا تھا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بھی لڑکا پیدا ہو اُسے مار ڈالا جائے۔اور لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے۔رعمسیس ؔ کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا منفتاحؔ تخت نشین ہوا اور اُس نے بھی اپنے باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بنی اسرائیل پر عرصہ حیات تنگ کردیا۔آخر جب ان کی دردناک چیخ وپکا رنے عرشِ الٰہی کو ہلادیا تو اس نے ان اسیروں کی رستگاری کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ وہ فرعون کے پاس جائیں اور انہیں کہیں کہ وہ بنی اسرائیل کو آزاد کردے۔مگر بجائے اس کے کہ فرعون اس ظلم سے باز آتا اور بنی اسرائیل کی غلامی کی زنجیروں کو کاٹ دیتا اُس نے موسیٰ ؑ پر طعنہ زنی شروع کردی کہ تُو تو ہمارے ٹکڑوں پر پلتا رہا ہے۔اور اب تو ہی ہمیں وعظ و نصیحت کرنے کے لئے آگیا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا یہ سب کچھ درست ہے۔مگر کیا یہ اس ظلم کے جواز کی کوئی دلیل ہے جو بنی اسرائیل پر کیا جارہا ہے اگر مجھے پالا تو کیا اس کے نتیجہ میں تمہارے لئے یہ جائز ہوگیا کہ تم ساری قوم کو اپنی غلامی میں جکڑے رکھو۔اور خدا تعالیٰ کے ان بندوں کو جو تمہاری طرح اس دنیا میں آئے ذلّت اور بیچارگی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کرو۔قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَؕ۰۰۲۴قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ اس پر فرعون نے (شرمندہ ہوکر اور بات پھیرنے کے لئے ) کہا۔یہ رب العالمین کون ہے؟(جس کی طرف الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِيْنَ۰۰۲۵قَالَ لِمَنْ سے آنا تم بیان کرتے ہو۔)(موسیٰ نے ) کہا آسمان اور زمین اور جوکچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کا ربّ۔