تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 365

الزام لگا ئو بے شک یہ فعل مجھ سے سرزد ہواہے مگر فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّيْنَ مجھ سے یہ فعل ایسی حالت میں سرزد ہوا تھا جبکہ میں اپنی قوم کی محبت میں سرشارتھا یعنی جب میں نے دیکھا کہ ایک دشمن قوم کا فرد میری قوم کے ایک آدمی کو بلاوجہ ماررہاہے تومجھے اپنی مظلوم قوم کے ایک فرد کی حمایت میں جوش آگیا اورمیں نے ظالم کامقابلہ کیاجس کے نتیجہ میں وہ نادانستہ طورپر ہلاک ہوگیا۔یہ واقعہ جس کی طر ف فرعون نے اشار ہ کیا وہی ہے جس کااوپر ذکر کیاجاچکا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک رات ایک قبطی کو دیکھا کہ وہ ایک اسرائیلی سے لڑرہاہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس سے گذرے تواسرائیلی نے حضرت موسیٰ ؑکو دیکھ کرانہیں اپنی مدد کے لئے پکارا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی سمجھا کہ اگر میں نے اسرائیلی کی مدد نہ کی تووہ ماراجائے گا چنانچہ انہوں نے آگے بڑھ کر قبطی کو ایک گھونسامارا۔اب یاتوجوش کی حالت میں وہ گھونسازیادہ زور سے مار بیٹھے یااس کادل کمزور تھا گھونساکے لگتے ہی وہ مرگیا۔اس واقعہ کافرعون انہیں طعنہ دیتاہے اورکہتاہے کہ ہم نے توتجھے بچوں کی طرح پالااورتونے ہمارے ہی آدمی کو ماردیا۔اورناشکری کا نمونہ دکھایا۔حضر ت موسیٰ علیہ السلام اسے جواب دیتے ہیں کہ پہلے سب حالات پر غور کر و اورپھر الزام لگائو۔یہ تودرست ہے کہ میرے ہاتھ سے ایک آدمی ماراگیا لیکن سوال یہ نہیں کہ آدمی ماراگیایانہیں۔سوال یہ ہے کہ آیامیرااسے مارنے کا ارادہ تھایانہیں۔اگرحالات سے یہ ظاہرہوتاہے کہ یہ واقعہ ایساتھا جس میں فوری مدد کی ضرورت تھی۔توایسی حالت میں اگرمیں نے اپنی قوم کے ایک مظلوم فرد کی مدد کی توگو اتفاقی طورپر ایک آدمی مربھی گیا۔لیکن پھر بھی میں قصوروار کس طرح ہوا۔میراقصور توتب ہوتا جب میں جانتے بوجھتے ہوئے محض قتل کرنے کی نیت سے اس پر حملہ کرتا۔مگر جبکہ میراارادہ اسے قتل کرنے کا تھا ہی نہیں تواگر نادانستہ طور پر ایک آدمی مرگیا تویہ بات مجھے مجرم بنانے والی کس طرح ہوگئی۔مگر بہرحال چونکہ میں نے ایک مظلوم قوم کے فرد کی حمایت کی تھی۔اورحاکم قوم کاایک فردماراگیا تھااس لئے مجھے ڈرپیداہواکہ میرے معاملہ میں انصاف سے کام نہیں لیاجائے گااورمجھے سزادینے کی کوشش کی جائے گی۔چنانچہ میں تمہارے ملک کوچھوڑ کربھاگ گیا مگر میرے رب نے جو میرے دلی خیالات کوجانتاتھا۔مجھے بر ی قرار دیا اورمجھے شریعت عطافرمائی اورمجھے اپنارسول بناکرکھڑاکردیا۔باقی رہاوہ احسان جو توجتارہاہے کہ ہم نے تجھے پالا۔سوکیا یہ احسان اس جرم کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت رکھتاہے کہ تم نے اپنے باپ رعمسیس ثانی کے زمانہ سے سارے بنی اسرائیل کو اپنی غلامی میں جکڑ رکھا ہے اور تم انہیں بے گار میں پکڑ کر ان سے بڑے بڑے مشقت طلب کام لیتے ہو۔اوران پرایسے ایسے مظالم ڈھاتے ہو جونہایت شرمناک ہیں اگر اتنے لمبے عرصہ تک ایک قوم کے مردوں