تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 290

مگرقرآن کریم نے حضر ت کرشن اوراسی طرح اَورکئی انبیاء کاجن کے نام تک صفحہ ء تاریخ میںمحفوظ نہیں اجمالی طورپر ذکر کرکے فرما دیا کہ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ فَبِھُدَاھُمُ اقْتَدِہْ(الانعام :۹۱)یعنی یہ سارے کے سارے وہ لو گ تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی۔یعنی یہ سب کے سب منعم علیہ گروہ میں شامل تھے اورخدا تعالیٰ کے فضلوں اوراس کی تائیدات کے مورد تھے۔پس اب تمہاراکام یہی ہے کہ تم انہی لوگوں کے راستہ پرچلو اورانہی کی تقلید کرو۔اس سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم تمام انبیاء کو معصوم قرار دیتا اورہرالزام کورد کرتاہے جوان پر لگایا گیا۔خواہ وہ الزام منافقوں کی طرف سے لگایاگیاہو یا مخالفوں کی طرف سے۔وہ ان کے حسین چہر ہ پر سے ہرقسم کی گردوغبارکو دور کرتا اوران کی نورانیت کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کرتاہے اوریہ قرآن کریم کااتنا بڑا احسان ہے کہ جس کی نظیر دنیا کی اَورکوئی کتاب پیش نہیں کرسکتی۔پھرقرآن کریم نے اپنے مبین ہونے کے مقام کو اس طرح بھی ظا ہرکیا کہ اس نے دنیاکے ہرنبی کی عزت کوقائم کیا اوران کی صداقت پر ایمان لانا ضروری قراردیا۔اس میںکوئی شبہ نہیں کہ دنیا کے جس ملک کے حالات سے بھی واقفیت حاصل کی جائے اس کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگ کسی نہ کسی بزرگ کے ماننے والے ہیں۔مگروہ ساری بزرگی صر ف اپنے اپنے بزرگوں تک محدود سمجھتے ہیں۔ہندوستان کے لوگ اگر حضرت کرشن اور حضرت رامچندر جی کو خدا تعالیٰ کا اوتار مانتے ہیں توساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے سوااَورکسی ملک میں کوئی اوتار نہیں ہوا۔اسی طرح عیسائی اوریہودی وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں کہ صرف ہمارے بزرگ سچے تھے باقی سب جھوٹے ہیں۔لیکن قرآن کریم نے بتایاکہ اِنْ مِنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَانَذِیْرٌ( فاطر: ۲۵)دنیا کی کو ئی قوم ایسی نہیں جس میں خدا تعالیٰ کا کوئی مصلح اورہادی مبعوث نہ ہواہو۔چنانچہ جب ہم مختلف اقوام پر نظر دوڑاتے ہیں توہمیں معلوم ہوتاہے کہ و ہ سب کی سب اس بات کی قائل ہیں کہ ان میں اللہ تعالیٰ کاکوئی نہ کوئی مصلح آیاتھا۔ہم ہندوئوں پر نگاہ دوڑاتے ہیں تو ہمیں ان میں حضرت کرشن اور حضرت رامچندر جی کاوجود دکھائی دیتاہے۔ہم عیسائیوں پر نگاہ دوڑاتے ہیں تو ہمیں ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود نظرآتا ہے۔ہم یہودیوں پر نگاہ دوڑاتے ہیں توہمیں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے کئی انبیاء نظر آتے ہیں۔غرض دنیا کا کوئی خطہ ایسانہیں جس میں کوئی نبی نہ آیا ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ جیسے عرب کا خداہے ویسے ہی وہ ہندوستان اورچین اورشام اورمصر اورایران وغیرہ کابھی خداہے۔اس نے ساری دنیاکے لئے سورج اورچاند اورستارے سب ایک جیسے بنائے ہیں۔ایک ہی زمین سب کے لئے بنائی ہے۔پھر جب اس نے سب لوگوں کی جسمانی ضرورتوں کو پوراکیاہے توروحانی ضرورتوںکو وہ کس طرح نظر انداز کرسکتا تھا جبکہ روح کی