تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 271
محض اس عزت افزائی کے لئے اسلام قبول کرتے تو ان کا ایمان صرف سودا اور دوکانداری رہ جاتا۔کسی انعام کا موجب نہ بنتا۔(ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد ۵ صفحہ ۴۹۳) اِسی طرح حضرت خدیجہؓ جب ایمان لائیں تو اُن کو کیا معلوم تھا کہ اس ایمان کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اُن کے لئےکیاکچھ برکات مقدّر کر رکھی ہیں۔بیشک انہوں نے اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لئے اپنا تمام مال قربان کردیا۔یہاں تک کہ وہ مکہ کی متمول ترین عورت ہوتے ہوئے غربت اور تنگدستی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبورہوگئیں۔اور پھر شعب ابی طالب میں متواتر تین سال تک انہوںنے ایسی ایسی تکالیف برداشت کیںکہ اُنہی کے نتیجہ میں آپ وہاں سے نکلتے ہی انتقال فرماگئیں(السیرة النبویة لابن ہشام حدیث تزویج رسول اللہ ؐ خدیجة ؓوخبر الصحیفة،ووفاۃ ابی طالب و خدیجۃؓ)مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانیوں کو ایسا نوازا کہ آج تک عالمِ اسلام اُن کا نام عزت اور ادب کے ساتھ لے رہا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ان کی ایسی محبت ڈالی کہ جنگ بدر میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کے داماد ابو العاص جو ابھی تک اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے قید ہوکر آئے تو آپ ؐ کی صاحبزادی حضرت زینبؓ نے جو ابھی مکہ میں ہی تھیںاُن کے فدیہ کے طور پر اپنے گلے کا ہار اتارکر بھیج دیا۔یہ وہ ہار تھا جو حضرت خدیجہؓ نے اپنی بیٹی کو جہیز میں دیا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار کو دیکھا تو آپ ؐ کو حضرت خدیجہؓ یادآگئیں۔اور آپ ؐ کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئے۔پھر آپؐ نے صحابہ سے فرمایا۔اگر تم چاہو تو خدیجہؓ کی یہ یادگار اُن کی بیٹی کے پاس محفوظ رہے (السیرة النبویۃ لابن ہشام ذکر رؤیا عاتکۃ بنت عبد المطلب)۔اِسی طرح حضرت خدیجہؓ کی وفات کے کئی سال بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اپنے گھر میں تشریف رکھتے تھے۔کہ حضرت خدیجہؓ کی بہن ہالہؓ آپؐ سے ملنے کے لئے آئیں اور دروازے پرکھڑے ہوکر انہوں نے کہا۔کیا میں اندر آسکتی ہوں۔ہالہؓ کی آواز چونکہ اپنی بہن حضرت خدیجہؓ سے بہت کچھ ملتی جلتی تھی۔اس لئے اس آواز کے کان میں پڑتے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں حضرت خدیجہ ؓ کی یاد تازہ ہوگئی۔آپؐ بے تاب ہوکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا۔آہ میرے خدا!یہ تو خدیجہؓ کی آواز معلوم ہوتی ہے (بخاری کتاب مناقب الانصار باب تزویج النبی ؐخدیجةو فضلھا ؓ)۔پھر اللہ تعالیٰ نے اُن پر ایسا احسان کیا کہ ابراہیم ؓ کے سوا جو حضرت ماریہ قبطیہؓ کے بطن سے پید اہوئے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی تمام اولاد حضرت خدیجہؓ سے ہی پیدا ہوئی (اسد الغابة کتاب النساء حرف میم ماریہ القبطیۃ)۔چنانچہ حضرت خدیجہ ؓ کے بطن سے آپ کے تین لڑکے