تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 270

آپؐ نے بارہا اُن کی تعریف فرمائی۔جب حضرت علیؓ بڑی عمر کو پہنچے ہوں گے تو اُن کواللہ تعالیٰ کے یہ فضل دیکھ کر کتنا فخر محسوس ہوتا ہوگا۔اور اُن کو کتنی راحت ہوتی ہوگی۔پھر ایک دفعہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنگ کے لئے باہر تشریف لے گئے۔تو آپؐ نے حضرت علیؓ کو مدینہ میں رہنے کا حکم دیا۔حضرت علیؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور انہوں نے کہا۔یا رسول اللہ !کیا آپؐ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ چلے ہیں۔آپؐ نے فرمایا۔اَلَا تَرْضیٰ اَنْ تَکُوْنَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُّوْسیٰ (ترمذی ابواب المناقب باب مناقب علیؓ) یعنی اے علی ؓ !کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارونؑ کو موسیٰ سے تھی۔یعنی ہارون ؑ کو بھی توموسیؑ اپنے پیچھے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔پھر کیا ہارون کی عزت کم ہوگئی تھی۔اب دیکھویہ اعزاز جو حضرت علیؓ کو حاصل ہوا۔اس کے مقابلہ میں اُن کی قربانیاں کیا چیز تھیں۔اسی طرح اس امت کے اکثر اولیاء ؔ اور صوفیا ء حضرت علیؓ کی اولاد میں سے ہی تھے۔اور پھر ان کے ذریعے خدا تعالیٰ نے ایسے ایسے معجزات ظاہر کئے کہ ان کو دیکھ کر حیرت آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے میں نے ایک واقعہ سنا ہوا ہے۔کہ ہارو ن الرشید نے امام موسیٰؔ رضا ؒ کو کسی وجہ سے قید کردیا۔اور اُن کے ہاتھو ں اور پائوں میں رسیّاں باندھ دی گئیں۔اُس زمانہ میں سپرنگ دار گدیلے تو نہ تھے۔عام روئی کے گدیلے ہوتے تھے۔ہارون الرشید اپنے محل میں آرام دہ گدیلوں پر سویا ہوا تھا کہ اُس نے خواب میں دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں۔اور آپؐ کے چہرہ پر غضب کے آثار ہیں۔آپؐ نے فرمایا۔ہارون الرشید! تم ہم سے محبت کا دعویٰ کرتے ہو۔مگر تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم تو آرام دہ گدیلوں پر گہری نیند سور ہے ہو۔اور ہمارا بچہ شدّت گرما میں ہاتھ پائوں بندھے ہوئے قید خانہ کے اندر پڑا ہے یہ نظارہ دیکھ کر ہارون الرشید بیتاب ہو کر اُٹھ بیٹھا۔اور ایک کمانڈر کو ساتھ لے کر اُسی جیل خانہ میں گیا اور اپنے ہاتھ سے اُن کے ہاتھوں اور پائوں کی رسیا ں کھولیں۔انہوں نے ہارونؔ الرشید سے کہا۔آپ تو اتنے مخالف تھے اب کیا بات ہوئی کہ خود چل کر یہاں آگئے۔ہارونؔ الرشید نے اپنا خواب سنایا اور کہا میں آپ سے معافی چاہتا ہوں۔میں اصل حقیقت کو نہ جانتا تھا۔اب دیکھو اس زمانہ میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علیؓ کے زمانہ میں کتنا بڑا فاصلہ تھا۔ہم نے کئی بادشاہوں کی اولادوں کو دیکھا ہے کہ وہ دربدر دھکے کھاتی پھرتی ہیں میں نےخود دلّی میں ایک سقّہ دیکھا جو شاہانِ مغلیہ کی اولاد میں سے تھا۔وہ لوگوں کو پانی پلاتا پھرتا تھا مگر اُس میں اتنی حیا ضرور تھی کہ مانگتا کچھ نہ تھا۔دوسری طرف حضرت علی ؓ کی اولاد کو دیکھو کہ اتنی پشتیں گزرنے کے بعد بھی خدا تعالیٰ ایک بادشاہ کو رئویا میں ڈراتا ہے۔اور اُن سے حُسن سلوک کرنے کی تاکید کرتا ہے۔اگر حضرت علیؓ کو اس اعزاز کا پتہ ہوتا اور اُن کو غیب کا علم حاصل ہوتا اور وہ