تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 261
ہوتا ہے تم کو لڈو کھانے نہیں آتے۔و ہ اس وقت تو خاموش ہو گئے مگر کچھ دنوں کے بعد ا ن سے کہنے لگے۔حضور مجھے لڈوکھانے سکھا دیجئے۔حضرت مرزامظہر جان جانانؒ نے کہا کہ اگر اب کسی دن لڈو آئیں تومجھے بتانا۔میں تمہیں لڈوکھانا سکھادوں گا۔کچھ دنوں کے بعد پھر کو ئی شخص ان کے لئے بالائی کے لڈو لایا۔میاں غلام علی صاحب کہنے لگے۔حضور!آپ نے میرے ساتھ وعدہ فرمایا ہواہے کہ میں تمہیں لڈو کھانا سکھادوں گا۔آ ج اتفاقاً پھر لڈو آگئے ہیں۔آپ مجھے بتائیں کہ لڈو کس طرح کھائے جاتے ہیں۔انہوں نے اپنا رومال نکالا۔اوراس پر وہ لڈو رکھ کر ایک لڈو سے ذرہ ساٹکڑہ توڑکر اپنے منہ میں ڈالااورسبحان اللہ !سبحان اللہ کہنے لگ گئے۔پھر فرمانے لگے۔واہ مظہر جان جاناںؒ تجھ پر تیرے رب کاکتنا بڑافضل ہے۔یہ کہہ کر پھر سبحان اللہ !سبحان اللہ کہنے لگ گئے اوراپنے شاگرد کو مخاطب کر کے فرمایا۔میاں غلام علی! یہ لڈو کن کن چیزوں سے بنتاہے۔انہوں نے چیزوں کے نام گنانے شروع کردیئے کہ اس میں کچھ بالائی ہے کچھ میٹھاہے۔کچھ میدہ ہے۔یہ سن کر انہوں نے پھر سبحان اللہ !سبحان اللہ کہنا شروع کردیا اورفرمایا۔میاں غلام علی! تمہیں پتا ہے یہ میٹھا جو اس لڈو میں پڑا ہے کس طرح بنا۔انہوں نے بتایا کہ زمیندار نے پہلے گنا بویا۔پھر بیلنے میں اس کو بیلا۔پھر رس تیار ہو ئی اوراس سے شکر بنائی گئی۔حضرت مظہر جان جانان ؒ فرمانے لگے۔دیکھو وہ زمیندار جس نےنیشکر کو بویاتھاو ہ کس طرح اپنے بیوی بچوں کو چھو ڑکر راتوںکو اُٹھ اٹھ کر اپنے کھیتو ں میں گیا اس نے ہل چلایا۔کھیتوںکو پانی دیا اورایک لمبے عرصہ تک محنت و مشقت برداشت کرتارہا۔صرف ا س لئے کہ مظہر جان جانانؒ ایک لڈو کھالے۔یہ کہہ کر وہ پھر اللہ تعالی کی تسبیح و تحمیدمیں مشغول ہوگئے۔اورتھو ڑی دیر بعد فرمانے لگے۔چھ ماہ زمیندار اپنے کھیت کو پانی دیتا رہا۔پھر کس محنت سے اس نے نیشکر کو بیلا۔اس سے رس نکالی اورپھر آگ جلا کر کتنی دفعہ وہ اس دنیا کے دوزخ میں گیا۔محض اس لئے کہ مظہر جان جاناںؒ ایک لڈو کھالے۔اس کے بعد انہوں نے اسی طرح میدہ اوربالائی کے متعلق تفاصیل بیان کرنی شروع کردیں۔کہ کس طرح ہزاروںآدمی دن رات ان کاموں میں مشغول رہے۔انہوں نے اپنی صحت کی پرواہ نہ کی۔انہوں نے اپنے آرام کو نہ دیکھا انہوں نے اپنی آسائش کو نظر انداز کردیا۔اوریہ سارے کام خدا تعالیٰ نے ان سے محض اس لئے کرائے کہ مظہر جان جانان ایک لڈو کھالے۔یہ کہہ کر ان پر پھر ربودگی کی کیفیت طاری ہوگئی اوروہ سبحان اللہ ! سبحان اللہ کہنے لگ گئے۔اتنے میں عصر کا وقت آگیا اوروہ اٹھ کر نماز کے لئے چلے گئے۔اورلڈو اسی طرح پڑارہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی ہم نے دیکھا ہے۔آپ کا یہ طریق تھا کہ جب آپ روٹی کھاتے توروٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا توڑکر اپنے منہ میں ڈال لیتے اوراس وقت تک کہ دانت اس کو چباسکیں اچھی طرح چباتے