تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 236

اسی حقیقت کو بیان کرنےکے لئے ایک عر ب شاعر کہتا ہے۔أَنْتَ الَّذِیْ وَلَدَتْکَ اُمُّکَ بَاکِیًا وَالنَّاسُ حَوْلَکَ یَضْحَکُوْنَ سُرُوْرًا فَاحْرِصْ عَلٰی عَمَلٍ تَکُوْنُ اِذَا بَکَوْا فِیْ وَقْتِ مَوْتِکَ ضَاحِکًا مَسْرُوْرًا یعنی توُ وہی تو ہے کہ جب تو پیدا ہوا تھا تو تُو رو رہا تھا کیونکہ ہر بچہ پیدا ہونے کے بعد روتا ہے۔اور تیر ے اردگرد بیٹھے ہوئے لوگ ہنس رہے تھے کہ لڑکا پیدا ہوا ہے۔پس اب تُو ایسے اعمال کے لئے جدوجہد کر کہ جب تُو مرنے لگے تو تُو ہنس رہا ہو کہ میں اپنے خدا سے نیک بدلے لینے کے لئے جارہا ہوں اور تیرے ارد گرد بیٹھے ہوئے لوگ رو رہے ہوں کہ ایسا اچھا انسان ہم سے چھینا جا رہا ہے۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہےمَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ۔تم اپنی ہستی کو کیا سمجھتے ہو ؟ آخر انسان ہے کیا چیز کہ خدا تعالیٰ اُس کی پرواہ کرے۔اگر خدا تعالیٰ انسان کو خود ہی بطور احسان اپنی طرف بلانے کا سامان نہ کرتا اور اُسے فرش سے اٹھا کر عرش تک نہ پہنچا دیتا تو اپنی ذات میں وہ کیا حقیقت رکھتا تھا کہ اُس کی طرف توجہ کی جاتی۔یہ خدا تعالیٰ کا احسان ہی ہے جس نے انسان کو اٹھایا اور اُسے ترقی عطا فرمائی۔چنانچہ لَوْلَا دُعَآءُ کُمْ کے ایک معنے یہی ہیں کہ لَوْلَا دُعَآ ؤُہٗ اِیَّاکُمْ اِلیٰ طَاعَتِہٖ یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے یہ لازم نہ کر لیا ہوتا کہ میں اپنے بندوں کو پکاروں گا اور اُن کی ترقی کے سامان کروںگا تو تم ایک مشتِ خاک سے زیادہ کوئی حقیقت نہ رکھتے تھے یہ محض خدا تعالیٰ کا احسان ہی ہے کہ وہ دنیا کی گمراہی پر اپنا کوئی مامور اور مصلح کھڑا کرتا اور بھٹکتی ہوئی مخلوق کو پھر راہِ راست کی طرف لے آتا ہے۔وہ اُس کے ذریعہ گِری ہوئی قوموں کو عزت دیتا اور گمنامی میں زندگی بسر کرنے والوں کو دنیا کا معلم اور بادشاہ بنا دیتا ہے۔اگر اُس نے تمہارے لئے اپنا کلام نازل نہ کرنا ہوتا تو وہ تمہاری اس قدر خاطر و مدارات کیوں کرتا اور تمہارے لئے زمین و آسمان کیوں بناتا۔پھر تو تمہاری طرف اُسے اس قدر توجہ کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔یہ محض اُس کا احسان ہے کہ وہ تمہیں اپنی طرف بلا کر تمہارے لئے عزت کے سامان پیدا کرتا ہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دیکھ لو۔آپ تمام جہان سے منقطع ہو کر ایک گوشۂ گمنامی میں پڑے تھے اور غارِ حرا میں عبا دتیں کیا کرتے تھے۔آپ نے وہ تمام ذرائع جو دنیوی ترقی کے حصول کے ہیں ترک کر رکھے تھے مگر آپ کے پاس خدا تعالیٰ کا فرشتہ آیا اور اُس نے کہا اُٹھ خدا تجھے بلاتا ہے۔اور پھر اُس گوشہ گمنامی سے نکال کر