تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 213

وجہ سے ہوئی ہے حالانکہ اُن کی ترقی نہ سائینس کی وجہ سے ہوئی ہے اور نہ گولہ بارود کی وجہ سے ہوئی ہے بلکہ اُن کی ترقی محض اخلاق کی وجہ سے ہوئی ہے۔انگریزی عدالتوں میں چلے جائو اور وہاں اُن کے واقعات دیکھو۔جج پوچھتا ہے تم نے یہ جرم کیا ہے وہ کہتا ہے ہاں کیا ہے۔پھر پوچھتا ہے تم فلاں جگہ پر تھے۔وہ کہتا ہے جی ہاں تھا۔ہماری عدالت میں چلے جائو۔چور کو پولیس والے عین سیندھ کے اوپر سے پکڑ کر لاتے ہیں اور جج پوچھتا ہے تم وہاں تھے تو وہ کہتا ہے۔میں تو اس محلہ میں تھا ہی نہیں۔وہ پوچھتا ہے تم کہاں تھے۔وہ کہتا ہے میں تو فلاں شہر میں تھا۔پھر وہ پوچھتا ہے ارے پولیس نے تم کو وہاں سے نہیں پکڑا۔وہ کہتا ہے جھوٹ ہے۔ان کو مجھ سے فلاں پرانی عداوت تھی اس کی وجہ سے یہ مجھے پکڑ کر لے آئے ہیں۔غرض شروع سے لےکر آخر تک جھوٹ ہی جھوٹ چلتا ہے اور وہاں گو مجرم اپنے بچائو کی بھی کوشش کرتا ہے۔ٹرِک TRICKبھی کرتا ہے۔لیکن غیر ضروری ٹرِک TRICKنہیں کرتا۔اور یہاں غیر ضروری جھوٹ بولا جاتا ہے۔مثلاً چوری کے ساتھ اس امر کا کوئی تعلق نہیں کہ اُس نے اُس وقت کا لا کوٹ پہنا ہوا تھا یا لال لیکن اگر وہ کہیں گے کہ کالا کوٹ پہنا ہوا تھا تو یہ کہےگا نہیں میں نے تو لال پہنا ہوا تھا۔یا مثلاً وہ کہہ دیں گے کہ تمہارے ہاتھ میں چھڑی تھی اب اس کا چوری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں لیکن یہ کہے گا۔نہیں میرے ہاتھ میں چھڑی نہیں تھی۔میرے ہاتھ میں قرآن تھا۔غرض یہ غیر ضروری جھوٹ جس کا مقدمہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ بھی یہ بولتا ہے اور ہر بات میں اُن کی تردید کرتا چلا جائےگا اور کہے گا یہ نہیں تھا وہ تھا۔لیکن یورپ میں چلے جائو۔سو میں سے ننانوے باتیں ملزم مان لےگا۔کوئی ایک اپنی جان بچانےکے لئے ٹرِک TRICKبھی کر جائےگا لیکن باقی سب باتوں کے متعلق کہے گا کہ ٹھیک ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کا کچھ نہ کچھ باعث آجکل کی اخلاقی حالت بھی ہے۔جن لوگوں کے سامنے آج کل مقدمات پیش ہوتے ہیں وہ سچ کی قیمت نہیں سمجھتے وہ خیال کر تے ہیں کہ اس نے جتنا سچ بولا ہے مجبوراً بولا ہے ورنہ اور سچ ابھی اس کے پیچھے ہے۔مثلاً ایک شخص نے دوسرے کو تھپڑ مار دیا۔وہ کہتا ہے میں نے تھپڑ اس لئے مارا تھا کہ مجھے اشتعال آگیا تھا۔لیکن اب بجائے اس کے کہ جج اس کی قدر کرے اور کہے کہ اس نے سچ بولا ہے وہ کہتا ہے کہ اس نے ضرور پانچ تھپڑ مارے ہوںگے۔صرف ایک تھپڑ کا اس نے اقرار کیا ہے۔غرض جھوٹ دنیا میں اتنا سرائت کر گیا ہے کہ کیا جج اور کیا وکیل اور کیا دوسرے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ کوئی شخص سو فیصدی بھی سچ بول سکتا ہے۔چونکہ اُن کا اپنا ماحول ایسا ہوتا ہے کہ اُن کے دوست اور رشتہ دار جھوٹ بولتے ہیں اس لئے اگر ان کے سامنے کوئی سچ بولے تو اس کی بھی قدر نہیں کی جاتی۔وہ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ لوگ ضرور بولتے ہیں اس لئے اس نے بھی کچھ نہ کچھ جھوٹ ضرور بولاہوگا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سچ بولنے والا گھبرا جاتا ہے اور گھبرا کر وہ خو د بھی جھوٹ