تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 212

سامنے پیش آتا ہے وہ سچائی ہی ہے۔ہزاروں انسان ایسے دیکھے جاتے ہیں جو رحم کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔انصاف کرنے والے بھی ہوتے ہیں لیکن جب انہیں گواہی دینی پڑے اور وہ یہ دیکھیں کہ اُس کے نتیجہ میں اُن کی اپنی ذات کو یا اُن کے کسی رشتہ دار اور دوست کو نقصان پہنچے گا تو وہ اس میں کچھ نہ کچھ ضرور تبدیلی کردیں گے۔اور یہ مرض اس قدر پھیل گیا ہے کہ ہمارے ملک میں لوگ بڑی دلیری کے ساتھ قسمیں کھا کھا کر جھوٹ بولتے ہیں اور ساتھ ہی اس بات پر ناراض بھی ہوتے ہیں کہ اُن کے جھوٹ کو سچ کیوں نہیں مانا جاتا۔عدالتوں میں پہلے یہ رواج تھا کہ گواہ کے ہاتھ میں قرآن کریم دے کر اُس سے قسم لیتے تھے اور اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ قرآن کریم میں جو وعید نازل ہوئے ہیں انہیں مدّنظر رکھتے ہوئے میں قسم کھاتا ہوں اور اگر میری قسم جھوٹی ہو تو مذکورہ وعید اور سزائیں مجھے ملیں۔لیکن اُن گواہوں میں سے کئی ایسے ہوتے تھے جو قسم کھا کر بھی جھوٹ بولتے تھے۔مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم جو ہمارے بڑے بھائی تھے اور ای۔اے۔سی تھے۔وہ اپنا تجربہ سنایا کرتے تھے کہ جتنے جوش سے کوئی شخص قرآن کریم ہاتھ میں لے کر میرے سامنے گواہی دیتا تھا۔میرے تجربہ میں اُتنا ہی وہ جھوٹا ہوتا تھا۔وہ ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص جو میرا اچھا واقف تھا اُس کا مقدمہ میرے سامنے پیش ہوا۔وہ کہنے لگا مجھے کوئی اور تاریخ دی جائے کیونکہ جو گواہ میں نے پیش کرنے تھے وہ فلاں فلاں وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتے۔میں نے ہنس کر کہا میں تو تمہیں بڑا عقلمند اور ہوشیار آدمی سمجھا کرتا تھا۔لیکن اب میری طبیعت پر یہ اثر ہوا ہے کہ تم بڑے بے وقوف ہو۔وہ کہنے لگا کیوں۔میں نے کہا گواہوںکے لئے جگہ اور وقت کی کیا ضرورت ہے۔اگر تمہارے پاس کچھ ہے تو روپیہ اٹھنی دے کر بعض آدمی گواہی کے لئے لے آئو۔چنانچہ وہ باہر چلا گیا اور عملی طور پر تھوڑی دیر کے بعد ہی کچھ گواہ لے آیا۔گواہی لیتے وقت میں ہنستا بھی جائوں اور اُن سے مذاق بھی کرتا جائوں۔وہ لوگ قرآن کریم سر پر رکھ کر اور قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ واقعہ یوں ہوا ہے حالانکہ تھوڑی دیر ہوئی میں نے خود مدعی کو اس غرض کے لئے باہر بھیجا تھا کہ وہ کچھ دے دلا کر چند گواہ لے آئے۔جب وہ گواہی دے چکے تو میں نے انہیں پکڑا اور اُن سے کہا کہ تم بڑے کذاب ہو۔تمہیں واقعہ کا کچھ بھی علم نہیں لیکن محض چند ٹکوں کی وجہ سے تم اتنا جھوٹ بول رہے ہو کہ قرآن کریم کی بھی پروا نہیں کرتے۔جس قوم کے افراد کی یہ حالت ہو اُس کا یہ شور مچا نا کہ ہم جیتتے کیوں نہیں بالکل غلط بات ہے۔دنیا میں وہی قومیں جیتا کرتی ہیں جن میں صداقت اور راستبازی ہوتی ہے۔میں عیسائی دنیا کو دیکھتا ہوں کہ انہوں نے مشق کے ساتھ اپنے اندر سچائی کی اتنی عادت پیدا کر لی ہے کہ جہاں حکومت کی خاطر وہ ہر قسم کا جھوٹ بول لیتے ہیں وہاں جب ذاتیات کا سوال آتا ہے تو وہ جھوٹ نہیں بولتے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ کی ترقی سائینس کی