تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 200

ایک شخص نے اپنی قمیص اٹھا کر دکھائی تو معلوم ہوا کہ اُس نے نیچے موٹی اون کا سخت کُرتہ پہنا ہو اتھا۔اُس نے حضرت عمر ؓ سے عرض کیا کہ ہم نے ریشمی کپڑے اس لئے نہیں پہنے کہ ہم ان کو پسند کرتے ہیں بلکہ اس لئے پہنے ہیں کہ اس ملک کے لوگ بچپن سے ایسے امراء دیکھنے کے عادی ہیں جو نہایت شان و شوکت سے رہتے تھے۔پس ہم نے بھی اپنے لباسوں کو صرف ملکی سیاست کے طور پر بدلا ہے ورنہ ہم پر اس کا کوئی اثر نہیں۔صحابہ ؓ کے اس عمل سے پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں بھی کبھی اسراف سے کام نہیں لیا اور اگر کسی مقام پر اُن سے کوئی لغزش بھی ہوئی تو خلفا ء نے اُن کو ڈانٹا اور انہیں نصیحت کی کہ وہ اموال کے خرچ میں افراط و تفریط سے بچیں اور سادگی اختیار کریں۔اس زمانہ میں زیادہ تر شادی بیاہ کے موقعہ پر لوگ اپنی ناک رکھنےکے لئے زیورات وغیرہ پر طاقت سے زیادہ روپیہ خرچ کر دیتے ہیں۔جو انجام کار اُن کے لئے کسی خوشی کا موجب نہیں ہوتا کیونکہ انہیں دوسروں سے قرض لینا پڑتا ہے جس کی ادائیگی انہیں مشکلات میں مبتلا کر دیتی ہے۔اگر کسی کے پاس وافر روپیہ موجود ہو تو اُس کے لئے شادی بیاہ پر مناسب حد تک خر چ کرنا منع نہیں لیکن جس کے پاس نقد روپیہ موجود نہیں وہ اگر ناک رکھنےکے لئے قرض لے کر روپیہ خرچ کرےگا تو اس کا یہ فعل اسراف میں شامل ہو گا۔مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسراف کی شکلیں ہمیشہ بدلتی رہتی ہیں۔مثلًا اگر ایک شخص کی آمد دو چار ہزار روپیہ ماہوار ہے اور وہ پندرہ بیس روپے گز کا کپڑا پہنتا ہے یا پانچ سات سوٹ تیار کرا لیتا ہے تو اُس کے مالی حالات کے مطابق اسے ہم اسراف نہیں کہیں گے۔لیکن اگر خدا نخواستہ اُس کی بیوی بچے بیمار ہو جائیں اور وہ ایسے ڈاکٹروں سے علاج کروائے جو قیمتی ادویات استعمال کر وائیں اور ہزار میں سے پانچ سات سو روپیہ ا س کا دوائوں پر ہی خرچ ہو جائے اور اس کے باوجود وہ اپنے کھانے پینے اور پہننے کے اخراجات میں کوئی کمی نہ کرے تو پھر اس کا یہی فعل اسراف بن جائےگا حالانکہ عام حالا ت میں یہ اسراف میں شامل نہیں تھا۔اسی طرح جب بھی کسی خرچ کے مقابلہ میں دوسری ضروریا ت بڑھ جائیں تو اُس وقت پہلے خرچ کو اُسی شکل میں قائم رکھنا جس شکل میں پہلے تھا اسراف میں شامل ہو جائےگا۔مثلاً اس زمانہ میں اسلام کی اشاعت کے لئے ہمیں کروڑوں روپیہ کی ضرورت ہے۔مختلف ممالک اور اکناف سے آوازیں آرہی ہیں کہ ہماری طرف ایسے لوگ بھیجے جائیں جو ہمیں اسلام کی تعلیم سکھائیں۔ایسا لٹریچر بھیجا جائے جو ہمارے شبہات کا ازالہ کرے۔اگر اس وقت ہماری جماعت کا کوئی فرد اپنے کھانے اور پینے اور پہننے کے اخراجات میں تخفیف نہیں کرتا اور زیاد ہ سے زیادہ روپیہ اسلام کی اشاعت کے لئے نہیں دیتا تو گو عام حالات میں اُس کا اچھا کھانا پینا اور پہننا اسراف میں شامل نہ ہو مگر موجودہ زمانہ میں اس کا ا پنے کھانے پینے اور پہننے پر زیادہ خرچ کرنا یقیناً اسراف میں شامل ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ میں