تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 197
اطاعت کے خلاف خرچ نہیں کرتے ( ۲) یا جہاں جہاں جتنا خرچ کرنا چاہیے اتنا خرچ کرنے میں جائز حد سے زیادہ خرچ نہیں کرتے (۳) یا مال غلط جگہ خرچ نہیں کرتے۔لَمْ یَقْتُرُوْا۔لَمْ یَقْتُرُوْاقَتَرَ ( یَقْتِرُ ) عَلٰی عِیَالِہٖ کے معنے ہیں ضَیَّقَ عَلَیْھِمْ فِی النَّفَقَۃِ۔اُس نے اہل و اعیال کو خرچ دینے میں تنگی اور بخل سے کام لیا اور جب قَتَرَالشَّیْءَ کہیں تو معنے ہوںگے ضَمَّ بَعْضَہٗ اِلیٰ بَعْضٍ کہ کسی چیز کے مختلف حصّوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر جمع کیا۔اور جب قَتَرَ الْاَمْرَ کہیں تو مطلب یہ ہوگا کہ لَازَمَہٗ یعنی اس معاملہ سے چمٹا رہا۔اور قَتَرَ مَابَیْنَ الْاَمْرَیْنِ کے معنے ہوتے ہیں قَدَّرَہٗ وَخَمَّنَہٗ دو معاملوں کا اندازہ اور تخمینہ کیا ( اقرب) لَمْ یَقْتُرُوْا۔یَقْتُرُ سے نفی کا صیغہ ہے اس لئے اس کے معنے ہوںگے (۱) وہ اپنے رشتہ داروں اور اقارب پر اپنے مال خرچ کرنے میں تنگی نہیں کرتے۔(۲) وہ مال جمع نہیں کرتے بلکہ موقعہ او رمحل پر خرچ کرتے ہیں ( ۳) وہ مالوں کے ساتھ چمٹے نہیں رہتے۔قَوَامًا : قوامًا اَلْقَوَامُ : اَلْاِعْتَدَالُ یعنی قوام کے معنے میانہ روی کے ہیں۔نیز اس کے معنے ہیں مَا یُعَاشُ بِہٖ۔وہ چیز جس کے ذریعہ سے زندگی گذاری جائے ( اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے رحمٰن کے بندوں کا ایک یہ بھی نشان ہے کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو دو باتیں اُن کے مدّنظر رہتی ہیں۔اوّل یہ کہ وہ اسراف سے کام نہیں لیتے اور دوسرے وہ بخل نہیں کرتے۔اسراف کا مرض اس زمانہ میں اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ آجکل مسلمان کی تعریف اور علامت ہی یہی سمجھی گئی ہے کہ جو کچھ اُس کے پاس ہو وہ سب خرچ کر دے اور اپنے پاس کچھ بھی نہ رکھے۔گویا قرآن کریم تو کہتا ہے کہ سچا مسلمان وہ ہے جو اسراف نہ کرے اور آج کل کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سچا مسلمان وہ ہوتا ہے جو سب کچھ بیچ کر کھا جائے۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ سُنایا کرتے تھے کہ ایک شخص کو اپنے باپ کی بہت سی دولت مل گئی۔اُس نے اپنے دوستوں اور آشنائوں کو بلا کر پوچھا کہ مجھے دولت خرچ کرنے کا کوئی طریق بتائو۔کسی نے کچھ بتایا اور کسی نے کچھ لیکن اسے کوئی پسند نہ آیا۔ایک دن وہ بازار سے گذر رہا تھا کہ بزاز کی دوکان سے کپڑے پھاڑنے کی آواز آئی جو اُسے پسند آگئی اور اُس نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ میرے سامنے روزانہ کپڑے کے تھان لالاکر پھاڑا کرو۔چنانچہ روزانہ اُس نے کپڑوں کے تھان پھڑوانے شروع کر دئیے اور صبح سے شام تک اُس کا یہی شغل رہتا کہ لوگ بیٹھے تھا ن پھاڑ رہے ہیں اور وہ چر چر کی آواز سُن کر خوش ہو رہا ہے۔اب خرچ کرنے کو تو اُس نے بھی اپنا روپیہ خرچ کیا مگر یہ کیسانامعقول خرچ تھا۔اس طرح