تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 196
وَ نَسِیْمُ الصَّبَا تُحَرِّ کُ اَبْوَابَـھَا ( تفسیر معالم التنزیل جلد ۳ صفحہ ۲۴۳ زیر آیت و اما الذین سعدوا۔۔)یعنی جہنم پر ایک ایسا زمانہ آئےگا کہ اُس میں کوئی شخص نہیں ہو گا اور ہوا اُس کے دروازے کھٹکھٹا ئےگی۔یعنی وہ کھلے ہوںگے اور دوزخ کے اندر کوئی قیدی نہیں رہے گا۔غرض اسلامی تعلیم کے ماتحت جزائے نیک تو دائمی ہوگی مگر دوزخ کا عذاب دائمی نہیں وہ بیشک ایک بھیانک اور تکلیف دہ چیز ہے مگر آخر خدا تعالیٰ کی محبت جوش میں آئے گی اور وہ گنہگار وں کو بھی اپنے سایۂ رحمت میں لے آئے گی۔اس جگہ ایک شبہ کا ازالہ کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا ھُمْ بِخَارِجِیْنَ مِنَ النَّارِ (البقرۃ :۱۶۸) یعنی دوزخی دوزخ کی آگ سے ہر گز نہیں نکل سکیں گے۔اس آیت سے یہ دھوکا ہر گز نہیں کھانا چاہیے کہ اس میں تو لکھا ہے کہ دوزخ میں سے کوئی نہیں نکلےگا۔کیونکہ اس میں اُن کے اپنے زور سے نکلنے کی نفی کی گئی ہے خدا تعالیٰ کے فضل کی نفی نہیں کی گئی۔پس اس آیت کا صرف یہ مطلب ہے کہ دوزخی اپنے زو ر سے اُس میں سے نہیں نکل سکیں گے۔ہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ ایک دن نکال دئیے جائیں گے۔وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَ لَمْ يَقْتُرُوْا وَ كَانَ اور وہ (اللہ کے بندے) ایسے ہوتے ہیں کہ جب خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی سے کام نہیں لیتے اور نہ بخل بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا۰۰۶۸ کرتے ہیں۔اور اُن کا( خرچ) اِن دونوں حالتوں کے درمیان درمیا ن ہوتا ہے۔حلّ لُغَات۔لَمْ یُسْرِفُوْا : لم یسرفوا اَسْرَفَ سے مضارع یُسْرِفُ بنتا ہے اور لَمْ یُسْرِفُوْا اس سے جمع مذکر غائب منفی کا صیغہ ہے اور اَسْرَفَ مَالَہٗکے معنے ہوتے ہیں۔بَذَّرَہٗ وَقِیْلَ اَنْفَقَہٗ فِیْ غَیْرِ طَاعَۃٍ۔اُس نے مال کو خرچ کیا اور ماہرین لُغت کہتے ہیں کہ اسراف کا لفظ اُس وقت بولیں گے جب اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی اطاعت کے خلاف مال خرچ کیا جائے نیز اُس کے معنے ہیں جَاوَزَالْحَدَّفِیْہِ وَاَفْرَطَ مال کے خرچ کرنے میں حد سے بڑھ گیا۔اَخْطَاءَ۔اُس نے مال کے خرچ کرنے میں غلطی کی یعنی غلط جگہ پر خرچ کیا۔جَھِلَ یا مال کے خرچ میں نادانی سے کام لیا ( اقرب ) پس لَمْ یُسْرِفُوْا کے معنے ہوںگے ( ۱) وہ اپنے اموال خدا تعالیٰ کی