تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 193
وہ عارضی وقت کے لئے ہو یا مستقل وقت کے لئے۔اس جگہ جہنم سے گو اخروی جہنم بھی مراد ہے جس سے ہر سچّا مومن اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہے مگر دنیوی نقطہ نگاہ سے ہر وہ امر جو انسان کے لئے دکھ اور تکلیف کا موجب ہو اور جس سے اس کی جان و مال یا عزت اور آبرو کو خطرہ ہو اور جو اُسے قوم اور ملک کی نظروں میں گرانے اور ذلیل کرنے والا ہو وہ بھی اس کے لئے جہنم کا ہی رنگ رکھتا ہے۔دراصل جہنم جَھَنَ اور جَھَمَ سے مرکب ہے۔جَھَنَ کے معنے کسی چیز کے قریب ہونے کے ہوتے ہیں اور جَھَمَ کے معنے منہ کے بگڑ جانے کے ہیں۔پس جہنم کے لفظ کا اطلاق ہر ایسی چیز پر ہو سکتا ہے جس کی طرف انسان پہلے تو بڑے شوق اور حرص کے ساتھ بڑھے مگر جب وہ اس کے قریب پہنچے تو اُس کا منہ بگڑ جائے اور وہ گھبرانے لگ جائے اس نام میں درحقیقت جہنمی افعا ل کی حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ انسان پہلے تو عیاشیوں اور بدکاریوں کو بڑا اچھا فعل سمجھتا اور اُن کے قریب پہنچنے کی کوشش کرتا ہے مگر جب وہ اُن بدیوں میں ملوّث ہو جاتا ہے اور اُن کا بُرا انجام آنکھوں کے سامنے آتا ہے تو اس کا مونہہ بگڑ جاتا ہے اور وہ رونے اور چیخیں مارنے لگ جاتا ہے۔اور کہتا ہے کہ میں نے تو بڑی غلطی کی۔ان معنوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس آیت میں عباد الرحمٰن کی یہ علامت بتائی گئی ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ سے یہ دُعائیں کرتے رہتے ہیں کہ الٰہی ہمیں ہر ایسے کام سے بچائیو جو ہمیں دنیا و آخرت میں ذلیل کر نے والا ہو۔تو ہمیں افلاس اور تنگدستی کے جہنم سے بچا۔ہمیں جہالت اور کم علمی کے جہنم سے بچا۔ہمیں بداخلاقی اور عیاشی کے جہنم سے بچا۔ہمیں دنیا داری اور ہوس پرستی کے جہنم سے بچا۔ہمیں اپنی آئندہ نسلوں کی خرابی کے جہنم سے بچا۔ہمیں کفر اورشیطنت کے جہنم سے بچا۔ہمیں لامذہبیت اور اباحت کے جہنم سے بچا۔ہمیں منافقت اور بے ایمانی کے جہنم سے بچا۔ہمیں خودسری اور جھوٹ اور ظلم اورتعدی کے جھنم سے بچا۔ہمیں اپنی محبت اور رضا سے دوری کے جہنم سے بچا۔کیونکہ خواہ یہ بُرائیاں ہم میں عارضی طور پر پیدا ہوں یا مستقل طور پر بہر حال ان کا پیدا ہونا ہمارے لئے تباہی اور رسوائی کا باعث ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ مستقل طور پر ان خرابیوں کا پیدا ہونا تو الگ رہا ہم میں عارضی اور وقتی طور پر بھی یہ خرابیاں پیدا نہ ہوں اور ہمیشہ ہمارا قدم صراطِ مستقیم پر قائم رہے۔گویا وہی دُعا جوسورئہ فاتحہ میں غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ کے الفاظ میں سکھائی گئی ہے اس جگہ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَھَنَّمَ کے الفاظ میں دہرادی گئی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے برگذیدہ بندوں کی یہ علامت بتا ئی گئی ہے کہ باوجود اس کے کہ انہیں دنیا پر غلبہ حاصل ہو تا ہے پھر بھی قومی تنزل کا خوف ہر وقت اُن کو آستانہ ٔ ایزدی پر جُھکائے رکھتا ہے اور وہ رات دن دُعائیں کرتے رہتے ہیں کہ الٰہی ہم میں اور ہماری آئندہ نسلوں میں کسی قسم کی خرابی پیدا نہ ہوتاکہ وہ جنت جو تُو نے