تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 192

ہوں اللہ تعالیٰ کے فرشتے مجھے یہ آوازیں دیتے سنائی دیتے ہیں کہ اَیُّھَا الْکُفَّارُ اُقْتُلُوا الْفُجَّارَ (تاریخ ابن خلدون مجلد ۳ صفحہ ۵۳۷)یعنی اے کافر و! ان فاجر و فاسق مسلمانوں کو خوب مارو۔چنانچہ بغداد تباہ ہو گیا۔اور عباسی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔حالانکہ ایک زمانہ میں اُن کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ رومی حکومت کے لشکر کو جو ساٹھ ہزار کی تعداد میں تھا مسلمانوں کے صرف ساٹھ آدمیوں نے شکست دے دی تھی اور اُن کے ساٹھ میں سے بھی صرف بارہ تیرہ شہید ہوئے اور بیس کے قریب خطرناک زخمی ہوئے باقی سب خیریت کے ساتھ واپس آگئے (فتوح الشام للواقدی زیر عنوان وقعة الیرموک )۔یہ تائید مسلمانوں کو صرف اس لئے حاصل ہوئی کہ وہ طاقت اور غلبہ کو اپنی عیاشی کا ذریعہ نہیں بناتے تھے بلکہ ہر قسم کی طاقت اور ہر قسم کا غلبہ حاصل کرنے کے باوجود اُن کی زبانیں ذکر الٰہی سے تر رہتی تھیں اور اُن کی راتیں خدا تعالیٰ کے حضور قیام اور سجود میں گذر جاتی تھیں۔دنیا میں بڑی بڑی فاتح اقوام گذری ہیں مگر ہمیں کسی قوم کی تاریخ میں یہ مثال نظر نہیں آئےگی کہ وہ اتنے خدا ترس ہوں کہ ان کی تلوار کسی عورت کسی بچے کسی بوڑھے اور کسی دینی شغف رکھنے والے انسان پر نہ اٹھتی ہو۔اُن کی تلوار کسی ایک انسان کا بھی ناجائز طور پر خون نہ بہاتی ہو اور راتوں کو وہ خدا تعالیٰ کے حضور روتے اور گڑ گڑاتے ہوں۔یہ عظیم الشان خوبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓ میں ہی پائی جاتی تھی۔جن کے اعلیٰ درجہ کے اخلاق اور بلند کردار کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے کفار کو بتا یا ہے کہ دیکھو یہ لوگ تمہارے ہی ملک اور تمہارے ہی شہر کے رہنے والے تھے اور تمہارے ہی ساتھ انہوں نے اپنی عمروں کا بیشتر حصہ بسر کیا مگر تم بھی جانتے ہو اور باقی سب لوگ بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ نہ اُن میں يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا والی بات پائی جاتی تھی اور نہ اُن میں يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِيَامًا والی کیفیت پائی جاتی تھی بلکہ اس کے بر عکس ظلم و ستم اُن کا شیوہ تھا۔اور شراب خوری اور عیاشی میں انہماک اُن کا رات دن کا شغل تھا مگر جب انہوں نے خدائے رحمٰن کے کلام کو قبول کیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلے تو اُن کی دنیا بھی بدل گئی اور اُن کی اخلاقی اور روحانی حالت میں بھی ایک تغّیر عظیم واقع ہو گیا۔اگر یہ خدائے رحمٰن کے کلام کو قبول کرنے کی برکت نہیں تو بتائو اُن میں یہ خوبیاں کہاں سے پیدا ہوئیں اور کس چیز نے انہیں ان اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا مالک بنا دیا۔پھر عباد الرحمٰن کی ایک اور علامت یہ بتائی کہ وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَھَنَّمَ اِنَّ عَذَابَھَا کَانَ غَرَامًا۔اِنَّھَا سَآ ئَ تْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا۔یعنی وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے یہ دُعائیں کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! عذاب ِ جہنم کو ہم سے دُور رکھ۔کیونکہ اُس کا عذاب ایک بہت بڑی تباہی ہے اور جہنم بہت برا ٹھکانہ ہے۔خواہ