تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 140
جماعت تو ہے جو محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پھیلا رہی ہے۔تو حق یہی ہے کہ یہ میٹھا پانی کڑوے پانی سے الگ رہےگا اور ایک برزخ ان دونوں کو جدا رکھے گا۔قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ ذوالقرنین سے بعض قوموں نے درخواست کی کہ یا جوج و ماجوج نے ہمارے علاقوں میں بڑا فساد برپا کر رکھا ہے آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک روک بنا دیں تاکہ وہ ہم میں داخل ہوکر کوئی خرابی پیدا نہ کر سکیں۔چونکہ اس زمانہ کے ذوالقرنین بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام ہیں اس لئے بالکل ممکن ہے کہ ذوالقرنین کے دیوار حائل کرنے سے مراد اس زمانہ میں مغربیت اور اسلام میں ہی دیوار حائل کرنا ہو اور دو قوموں سے مراد دو قسم کے جذبات اور قومی خیالات وافکار ہوں بہر حال ہمارا فرض ہے کہ ہم مغربیت اور اسلام کے درمیان ایک ایسی دیوار حائل کرد یں جس کے بعد مغربیت کے لئے ہمارے اندر داخل ہونے کا راستہ کھلا نہ رہے۔اور اسلامی فوج ایک ایسے قلعہ میں محفوظ ہو جائے جس پر شیطان کا کوئی حملہ کار گر نہ ہو سکے۔وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ اور وہ( خدا) ہی ہے جس نے پانی سے انسان بنایا۔پس اس کو کبھی تونسب بنایا ہے (یعنی شجر ہ ٔ آباء) اور کبھی صہر بنایا وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِيْرًا۰۰۵۵ ہے ( یعنی شجرۂ سسرال ) اور تیرا رب ہر چیز پر قادر ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔وہ خدا ہی ہے جس نے انسان کو پانی یعنی نطفہ سے پیدا کیا اور پھر اُسے ددھیال اور سسرال والا بنایا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانی تمدن کی ترقی کا ایک بڑا بھاری ذریعہ آپس کے ازدواجی تعلقات کو قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ یہی ایک ذریعہ ہے جس سے خاندانوں اور قوموں کے آپس میں گہرے روابط اور مضبوط تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ہمارے ملک میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ فلاں شیر و شکر ہو گئے۔یعنی جس طرح کھانڈ دودھ میں ملا دی جائے تو دونوں چیزیں یکجان ہو جاتی ہیں اسی طرح انسان بھی آپس میں مل جاتے اور شیرو شکر ہو جاتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کون سی چیز ہے جو انسانوں کو آپس میں ملانے والی ہے۔اس سوال کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ ذریعہ مردو عورت کی شادی ہے۔اس کے ذریعہ ایک انسان دوسرے انسان سے مل جاتا ہے ایک قوم دوسری قوم سے مل جاتی ہے بلکہ ایک ملک دوسرے ملک سے مل جاتا ہے۔