تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 131

آپ نے اپنی کتب میں بار ہا یہ عقیدہ بیان فرمایا ہے کہ قرآن کریم ایک دائمی شریعت ہے جس کا ایک ایک لفظ قابلِ عمل ہے اور اُس کا کوئی حکم قیامت تک نہیں بدل سکتا۔چنانچہ آپ ؑ تحریر فرماتے ہیں ’’ میری گردن اُس جُوئے کے نیچے ہے جو قرآن شریف نے پیش کیا ہے اور کسی کو مجال نہیں کہ ایک نقطہ یا ایک شعشہ قرآن شریف کا منسوخ کر سکے۔‘‘ ( اخبار عام لاہو ر ۲۶ مئی ۱۹۰۸؁ء مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۵۹۷) اور نسخ کے یہ محدود معنے کہ عارضی طور پر کسی شۓ کو روک دیا جائے عربی زبان میں عام مستعمل ہیں۔چنانچہ مفردات راغب جیسی زبردست لُغت ِ قرآن میں لکھا ہے کہ : اَلنَّسْخُ اِزَالَۃُ شَیْءٍ بِشَیْءٍ یَتَعَقَّبُہٗ کَنَسْخِ الشَّمْسِ الظِّلَّ وَالظِّلِّ الشَّمْسَ وَالشَّیْبِ الشَّبَابَ۔یعنی نسخ کا لفظ سورج کے لئے بھی استعمال ہو تا ہے جبکہ وہ سائے کو دور کر دیتا ہے اور سائےکے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جبکہ وہ سورج کو چُھپا دیتا ہے۔اور بڑھاپےکے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جب کہ وہ جوانی کو دور کر دیتا ہے یعنی کبھی تو نسخ عارضی ازالہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ سورج کے سایہ کو مٹادینے کے متعلق جو عارضی ہوتا ہے اور کبھی مستقل ازالہ کے لئے اس کا استعمال کیا جاتا ہے جیسے بڑھاپے کے جوانی کو مٹا دینے کے متعلق جو کہ مستقل ہوتا ہے۔چونکہ قرآن کریم ایک دائمی شریعت ہے اس لئے اس کے کسی حکم کے متعلق نسخ کے لفظ کا استعمال صرف التواء کے معنوں میں ہی ہے جیسا کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے صاف لکھا ہے کہ ؎ فرما چکا ہے سید کونین مصطفٰے ؐ عیسیٰ مسیح ؑ جنگوں کا کر دے گا التوا (تحفہ گولڑویہ، ضمیمہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۷۸) آپ کے اس شعر سے پتہ لگتا ہے کہ آ پ نے جو کچھ بھی اس بارہ میں لکھا ہے وہ صرف التواء کے معنوں میں ہے۔مستقل طور پر اس حکم کو منسوخ کرنے کے معنوں میں نہیں۔اور اس عارضی التوا ء کے متعلق بھی آپ نے یہی تشریح فرمائی ہے کہ جہاد کے التواء کے متعلق میں نہیں کہہ رہا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے چنانچہ آپ کی ایک تحریر سے صاف ظاہر ہے کہ ہو سکتا ہے آئندہ کسی زمانہ میں مسلمانوں کے لئے تلوار کی جنگ کی بھی ضرورت پیدا ہو جائے۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں :