تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 121

سروس کے نوجوان داخل ہوتے ہیں۔حالانکہ سڑائیکوں میں طلبا ء اور نوجوانوں کا ہی زیادہ تر دخل ہوتا ہے۔اسی طرح مزدور پیشہ لوگ بھی ہماری جماعت میں داخل ہوتے ہیں۔حالانکہ بظاہر اُن کے مفاد کے خلاف حکم دیا گیا تھا۔غرض فرماتا ہے ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیْلًا تمہاری ترقیات جس قدر ہوںگی انسانی تدابیر سے باہر ہوں گی اس کا یہ مطلب نہیں کہ مادی تدابیر نہیں کی جائیں گی بلکہ مطلب یہ ہے کہ مادی تدابیر کے سامان بھی خدا تعالیٰ خود مہیا کرے گا تم نہیں کرو گے۔پس محمدرسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے ایک سایہ دار درخت بنایا ہے جو قرآن کریم کی اس پیشگوئی کے ماتحت کہ اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ دنیا میں روز بروز بڑھتا چلا جائے گا۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتے تو کیا خدا تعالیٰ میں یہ طاقت نہیں تھی کہ وہ اس کو ساکن کر دیتا۔اگر اس سایہ کے بڑھانے میں انسانی تدابیر کا م کر رہی ہوتیں خدا تعالیٰ کا اس سلسلہ میں کوئی دخل نہیں تھا تو چاہیے تھا کہ خدا تعالیٰ اس کو ترقی سے محروم کر دیتا۔مگر فرماتا ہے بجائے اس کے کہ وہ اس کو ساکن کرتا وہ اس پر دلیل بن گیا ہے اور اپنی نصرتوں اور تائیدات سے اس کو بڑھاتا چلا جا رہا ہے۔اور جس سلسلہ کو خدا تعالیٰ مٹاتا نہیں بلکہ بڑھارہا ہے اس کے سچا اور خدائی ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو جن شدید ترین دشمنوں نے مسلمانوں کو قتل کیا تھا یا جنہوں نے مسلمان شہدا ء کی ہتک کی تھی یا جنہوں نے انگیخت کرکے مسلمانوں کو شہید کیا تھا یا شہید کروایا تھا اُن میں سے بعض افراد کے متعلق اس موقعہ پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دے دیا کہ وہ جہاں بھی مل جائیں اُن کو قتل کر دیا جائے۔انہی میں سے ایک ہندہ بھی تھی جب اُسے معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قتل کرنے کا حکم دےدیا ہے تو وہ عورتوں میں چھپی چھپی آپ کے پاس پہنچ گئی۔جب عورتوں کی بیعت ہونے لگی تو وہ بھی اُن عورتوں کے ساتھ مل کر الفاظ بیعت دوہراتی چلی گئی۔یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اقرار کرو کہ ہم شرک نہیں کریں گی۔اُس وقت ہندہ اپنی جو شیلی فطرت کے اُبھار کو روک نہ سکی اور جھٹ بول اُٹھی کہ یا رسول اللہ کیا اب بھی ہم شرک کریں گی ؟ آپ اکیلے تھے اور ہم ایک زبر دست قوم تھے۔آپ اکیلے نے توحید کی آواز بلند کی اور ہماری ساری قوم نے مل کر آپ کے مقابلہ میں بُتوں کی عظمت قائم کرنے کا تہیہ کیا۔ہمارا اور آپ کا مقابلہ ہوا۔اور اس مقابلہ میں ہم نے اپنا سارا زور صرف کر دیا مگر اس کے باوجود ہم گھٹتے چلے گئے اور آپ بڑھتے چلے گئے ہم ہارتے چلے گئے اور آپ جیتتے چلے گئے۔اگر ہمارے بُتوں میں کچھ بھی طاقت ہوتی تو کیا یہ ہو سکتا تھا کہ آپ