تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 105
اس پیشگوئی میں بتایا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ کا کلام ایک زمانہ میں اس قوم کے پاس آئے گا جو الہام کے دودھ سے محروم ہو گی۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُسی وقت مبعوث ہوئے جب زمانۂ نبوت پر ایک لمبا عرصہ گذر چکاتھا۔اور بنی اسرائیل بھی جو اہل کتاب تھے الہام کے دودھ سے محروم ہو چکے تھے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اُن کی اس روحانی پیاس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔کہيٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّ لَا نَذِيْرٍ١ٞ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّ نَذِيْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (المائدۃ:۲۰)یعنی اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا رسول آچکا ہے جو رسولوں کے ایک لمبے انقطاع کے بعد تم سے ہماری باتیں بیان کرتا ہے۔تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس نہ کوئی بشارت دینے والا آیا ہے نہ ڈرانے والا۔سو تمہارے پاس ایک بشارت دینے والا اور ڈرانے والا آگیا ہے۔اور اللہ ہر ایک بات پر قادر ہے۔اسی سلسلہ میں ایک بڑی علامت اس پیشگوئی میں یہ بتائی گئی تھی کہ وہ کلام جو اس نبی پر نازل ہوگا یکدم نازل نہیں ہوگا۔نہ کسی ایک شہر یا گائوں میں نازل ہوگا بلکہ حکم پر حکم اور قانون پر قانون مختلف مقامات پر اُتریں گے۔چنانچہ قرآن کریم بعینہٖ اسی طرح اُترا۔کچھ مکہ میں نازل ہوا اور کچھ مدینہ میں کچھ سفر میں نازل ہوا اور کچھ حضر میں۔یہاں تک کہ دشمنوں نے بھی یہ اعتراض کر دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سارا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نازل نہیں ہوا۔تعجب ہے کہ یسعیاہ نبی کی اس پیشگوئی کے باوجود مسیحی بھی آج تک قرآن کریم پر یہ اعتراض کرتے چلے جاتے ہیں اور اس طرح اپنی قلموں سے اس امر کا ثبوت مہیا کرتے رہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کے مصداق تھے۔اَلَّذِيْنَ يُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ شَرٌّ جو لوگ اپنے سرداروں سمیت جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے اُن کا مقام بہت بُرا ہوگا اور مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِيْلًاؒ۰۰۳۵ اُن کا رستہ بڑی گمراہی کا ہوگا۔حلّ لُغَات۔وُجُوْھِھِمْ : وجوھھم اَلْوَجْہُ کے معنے ہیں نَفْسُ الشَّیْءِ یعنی کسی چیز کا اپنا وجود۔اور جب اَلْوَجْہُ مِنَ الدَّھْرِ کہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں اَوَّلُہٗ زمانہ کا ابتدائی حصہ۔اسی طرح وَجْہٌ کے ایک معنے سَیِّدُ الْقَوْمِ یعنی قوم کے سردار کے بھی ہیں اور اس کے معنے اَلْجَاہُ یعنی عزت اَلْجِھَۃُ : جانب۔مَایَتَوَ جَّہُ اِلَیْہِ الْاِنْسَانُ مِنْ عَمَلٍ وَغَیْرِہٖ انسانی مطمح نظرا ور عمل۔اَلْقَصْدُ وَالنِّیَّۃُ : قصد اور نیت اور اَلْمَرْضَاۃُ یعنی رضا مندی کے بھی ہیں۔(اقرب) تفسیر۔وَجْہٌ کے ایک معنے جیسا کہ حل لغات میں بتا یا جا چکا ہے سردارِ قوم کے بھی ہوتے ہیں۔پس يُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ کے یہ معنے ہیں کہ قیامت کے دن کفار جہنم میں تو جائیں گے مگر اپنے سرداروں پر لعنتیں ڈالتے ہوئے اور انہیں بُرا بھلا کہتے ہوئے جائیں گے اور وہی لوگ جن کے لئے وہ اپنی جانیں قربان کیا کرتے تھے اور جن کے اشاروں پر وہ اپنا دین اور مذہب بھی فروخت کرنےکے لئے تیار رہتے تھے انہی سے وہ نفرت اور بے زاری کا اظہار کرنے لگ جائیں گے کیونکہ اُس وقت اُن پر حقیقت روشن ہو چکی ہوگی اور انہیں معلوم