تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 104

ڈالتا ہے اور دوسری طرف اُس کی تائید اور نصرت کا ثبوت ہوتا ہے۔پھر تیسری طرف خود اُس نبی کے ایمان اور اس کے یقین کے مختلف نمونوں کو پیش کر کے اُس کے رُوحانی کمالات کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔اگر شروع میں ہی یکدم سارا کلام نازل ہو جائے تو اُس میں یہ باتیں جمع نہیں ہو سکتیں۔اور اگر یہ باتیں کسی کلام میں جمع نہ ہوں تو وہ دنیا کی ہدایت اور رشد کا ذریعہ بھی نہیں بن سکتا۔پس ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کے انبیاء پر آہستہ آہستہ کلام نازل ہو تا کہ اُن کا تعلق باللہ زندگی کے ہر دور میں ظاہر ہوتا رہے۔پھر علاوہ ان حکمتوں کے قرآن کریم کا آہستہ آہستہ نزول اس لحاظ سے بھی اس کی صداقت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے کہ یسعیاہ نبی کے کلام میں یہ پیشگوئی پائی جاتی تھی کہ آخری زمانہ کے نبی پر جو کلام نازل ہوگا وہ آہستہ آہستہ مختلف ٹکڑوں کی صور ت میں نازل ہوگا۔چنانچہ انہوں نے پیشگوئی کرتے ہوئے فرمایا۔’’ وہ کس کو دانش سکھائےگا۔کس کو وعظ کرکے سمجھائےگا۔کیا اُن کو جن کا دودھ چھڑایا گیا۔جو چھاتیوں سے جدا کئے گئے کیونکہ حکم پر حکم۔حکم پر حکم۔قانون پر قانون۔قانون پر قانون ہے۔تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں لیکن وہ بیگانہ لبوں اور اجنبی زبان سے لوگوں سے کلام کرےگا جن کو اس نے فرمایا یہ آرام ہے تم تھکے ماندوں کو آرام دو۔اور یہ تازگی ہے پر وہ شنوا نہ ہوئے۔پس خداوند کا کلام اُن کے لئے حکم پر حکم۔حکم پر حکم۔قانون پر قانون۔قانون پر قانون۔تھورا یہاں تھوڑا وہاں ہوگا تاکہ وہ چلے جائیں اور پیچھے گریں۔اور شکست کھائیں۔اور دام میں پھنسیں اور گرفتار ہوں۔‘‘ ( یسعیا ہ باب ۲۸ آیت ۹ تا ۱۳) اس پیشگوئی میں بتایا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ کا کلام ایک زمانہ میں اس قوم کے پاس آئے گا جو الہام کے دودھ سے محروم ہو گی۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُسی وقت مبعوث ہوئے جب زمانۂ نبوت پر ایک لمبا عرصہ گذر چکاتھا۔اور بنی اسرائیل بھی جو اہل کتاب تھے الہام کے دودھ سے محروم ہو چکے تھے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اُن کی اس روحانی پیاس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔کہيٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّ لَا نَذِيْرٍ١ٞ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّ نَذِيْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (المائدۃ:۲۰)یعنی اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا رسول آچکا ہے جو رسولوں کے ایک لمبے انقطاع کے بعد تم سے ہماری باتیں بیان کرتا ہے۔تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس نہ کوئی بشارت دینے والا آیا ہے نہ ڈرانے والا۔سو تمہارے پاس ایک بشارت دینے والا اور ڈرانے والا آگیا ہے۔اور اللہ ہر ایک بات پر قادر ہے۔اسی سلسلہ میں