تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 88
وَ اِسْمٰعِيْلَ وَ اِدْرِيْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِيْنَۚۖ۰۰۸۶ اور اسماعیل ؑ کو بھی( یاد کر) اور ادریس ؑ کو بھی اور ذوالکفل ؑ کو بھی یہ سب کے سب صبر کرنے والے تھے۔تفسیر۔حضرت اسمعٰیل ؑ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے بیٹے تھے۔گو عیسائی کئی بہانوں سے ان کو لونڈی کا بیٹا قرار دے کر اپنے حق سے محروم کرنا چاہتے ہیں(پیدائش باب ۱۶ آیت ۱ تا ۵) اور حضرت ادریس ؑ کے حالات سورئہ مریم کی تفسیر میںدرج کئے جاچکے ہیں اب ہم ذوالکفل کے متعلق اپنی تحقیق پیش کرتے ہیں۔ذوالکفل کا ذکر نام لے کر قرآن کریم میںدو جگہ پر آتاہے۔ایک تو یہی آیت ہے جس میںاسمٰعیل ؑ ادریس ؑ اور ذوالکفل کا اکٹھا ذکر آتا ہے اور دوسرے سورئہ ص میں اسماعیل ؑ یسعیاہؑ اور ذوالکفل کااکٹھا ذکر آتا ہے۔گویا دو سورتوں یعنی انبیاء او ر ص میں ان کا ذکر آتا ہے ایک جگہ پر اسماعیل ؑ اور ادریس ؑ کے ساتھ اور دوسری جگہ پراسماعیل ؑاور یسعیا ہ ؑ کے ساتھ۔اسلامی مفسرین نے ذوالکفل ؑکے متعلق بہت سی روایتیں نقل کی ہیں اور یہ دعویٰ کیاہے کہ وہ ایک غیر نبی شخص تھا جسے بعض کے نزدیک ایک نبی نے اور بعض کے نزدیک ایک بادشاہ نے اپناقائم مقام مقرر کیا جو دن کو روزہ رکھتا تھا اور رات کو عبادت کرتا تھا۔اور غصہ میںکبھی نہیںآتا تھا(روح المعانی زیر آیت ھذا)۔ایک روایت عبد ا للہ بن عمر ؓ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمکی طرف منسوب کرکے حدیثوں میںیہ آتی ہے جسے علاوہ اور کتابوں کے مسند احمد ؒ اور سنن ترمذی میں بھی بیان کیاگیا ہے کہ ذوالکفل ایک شخص تھا جس نے ایک عورت کو بدکاری پر مجبور کیا اور اسے کچھ رقم دی۔عورت فاقوں کی وجہ سے مجبور تو ہوگئی لیکن رونے لگ گئی اس پر اسے خدا کاخو ف آگیا۔اور اس نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔او رخود بھی توبہ کرلی۔(مسند احمد بن حنبل بروایت عبد اللہ بن عمر و ترمذی ابواب صفۃ القیامة)۔اس حدیث میں کو ئی ایسے الفاظ نہیں ہیںجن سے معلوم ہو کہ یہ وہی ذوالکفل ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں آتاہے بلکہ انہی حدیثوں میںاس کانام الکفلؑ بھی آتاہے پس اگر یہ حدیثیں درست ہیں تو بالکل ممکن ہے کہ یہ روایت کسی اور شخص کے متعلق ہو۔کیونکہ ہر عقلمند سمجھ سکتاہے کہ یہ واقعہ ایسا نہیں جس کے مر تکب کو انبیا ء کے ساتھ گنا جائے۔اور اسمٰعیل ؑ اور ادریس ؑ اور اسمٰعیل ؑاو ر یسعیا ہ ؑکے ساتھ اس کانام لیا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ ذوالکفل معرب ہے حزقیل ؑ کا۔یاء وائو سے بدلتی رہتی ہے او ر وائو فاء سے بدل جاتی ہے۔پس