تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 87

ان کی بیوی نے ان کو شرک کی تعلیم دی تھی اور انہو ں نے قسم کھائی تھی کہ میںاسے سو کوڑے ماروںگا اور پھر قسم سے بچنے کے لئے یہ بہانہ بنایا کہ سو تیلیوں کا ایک جھاڑو پکڑ کر بیوی کو مار دیا۔یہ دھو کا مفسرین نے صرف حنث کے لفظ سے کھایا ہے جس کے معنے ہوتے ہیں قسم توڑنا اور توجیہہ یہ کی ہے کہ سو تیلیاں بیوی کو مار دے اور قسم نہ توڑ حالانکہ قرآن میںنہ سو کوڑوں کا ذکر ہے اور نہ سو تیلیاں مارنے کا ذکر ہے۔ضِغْثٌکے معنے صرف ایسی شاخ کے ہوتے ہیںجس میںکچھ خشک تیلیاں بھی ہوں اور کچھ سبز بھی اور ایسی ہی شاخ گھوڑوں کے مارنے کے لئے لوگ مہیا کرتے ہیںتاکہ سبزی کی وجہ سے وہ لچکدار ہو اور خشکی کی وجہ سے چمڑے میں چبھے حِنْثٌ کے معنے عربی میں مَالَ اِلی الْبَاطِلِ کے بھی ہیں پس بجائے اس دوراز عقل قصہ بنانے کے مفسرین کو چاہیے تھا کہ اس کے یہ معنے کرتے کہ ایک مشرک بادشاہ کی بادشاہت سے نکل جانےکاحکم حضرت ایوبؑ کو تھا اور قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ گھوڑے پر چڑھ ایڑیاں بھی مار اور درخت کی شاخ بھی مار اور جلدی جلدی اس ملک سے نکل جا تاکہ جلدی سے تو مشرکوں سے دور ہوجائے اور اس ملک سے نکلنے میںدیر نہ لگا اور شرک کرنےوالوں کی طرف مائل نہ ہو یعنی مشرکوں میںنہ رہ حِنْثٌ کے معنے جو مَالَ اِلی الْبَاطِلِ کے ہیں تو اس کے یہ معنے نہیں کہ دل سے باطل کی طرف مائل نہ ہو بلکہ اس جگہ جسمانی میلان بھی مراد ہو سکتاہے جو ہمسائیگت پر دلالت کرتاہے اور اس طرف اس جگہ اشارہ ہے فرماتا ہے کہ جلدی جلدی شرک کے علاقہ سے نکل جا گھوڑے کی سواری کی تھکان کی پرواہ نہ کر بادشاہ کے ظلم کی تھکان کا تو کوئی علاج نہیں تھا۔گھوڑ ے کی سواری کی تھکان کا علاج موجود ہے سامنے چشمہ ہے اس میںنہا اور اس سے پانی پی اور اس ملک کو چھوڑدینے پر افسو س نہ کر ہم تیرے تمام رشتہ داروں کو وہاں پہنچا دیںگے بلکہ ان جیسے اور بھی دیںگے یعنی اس ملک میںبھی تیرے خیرخواہ پید اہوجائیں گے اس بات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ایوب ؑ سے مشابہت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بھاگ کر شرک کا علاقہ چھوڑنا پڑاجہاں پانی نہیں ہوتا تھا۔او رپھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مکہ میں چھوڑی ہوئی بیو یوں کو بھی مدینہ پہنچا دیا اور ویسی ہی پاکباز اور نیک بیویاں مدینہ میںاو ربھی دیں۔یہی حضرت ایوب ؑ سے وعدہ تھا کہ اے ایوب! مشرک بادشاہ کی حکومت کو چھوڑ دے اور دوسرے علاقہ میں نکل جاوہاں ہم تیری تکلیفوں کو دور کردیںگے اور تیرے رشتہ دار بھی پہنچادیںگے بلکہ انہی جیسے اوربھی دیںگے اور نہانے اور پینے کے لئے پانی بھی کثرت سے مہیا ہوگا۔