تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 78
کی وجہ سے ان کاطائر یعنی مادہ ترقی کرتارہتاہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ فاطرمیںفرماتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓىِٕكَةِ رُسُلًا اُولِيْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ(الفاطر:۲) کہ سب تعریفیں اس اللہ کی ہیںجو آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والا ہے اور جس نے فرشتوں کو بنایاجن کے پرہوتے ہیں دو دو تین تین اور چار چار۔پھر انسانوں کی طرف آتاہے اور فرماتا ہے۔مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا١ؕ اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِيْنَ يَمْكُرُوْنَ السَّيِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓىِٕكَ هُوَ يَبُوْرُ(الفاطر:۱۱) یعنی تمہیںیہ تومعلوم ہوگیا کہ فرشتوں کے ہم نے ترقی کے لئے کئی کئی پر بنائے ہیں مگر اے انسانو !یاد رکھو کہ تمہارے لئے بھی ترقی کے مواقع ہیںبلکہ تم اگرچاہو تو فرشتوں سے بھی بڑھ سکتے ہو۔یاد رکھو تمام عزت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میںہےاور اسی کی طرف سچی اور پاکیزہ روحیں بلند ہوتی ہیںیعنی جن میں خدا کا کلام داخل ہو وہ ترقی کرجاتے ہیں۔مگر خالی نہیں بلکہالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهٗ اعمال صالحہ کا اسے سہارا چاہیے۔گویاالْكَلِمُ الطَّيِّبُ ایک پرندہ ہے مگر وہ اکیلانہیں اڑ سکتابلکہ اعمال صالحہ کی مدد سے صعود کرتاہے۔اور اس طرح اس کے دوپر بن جاتے ہیںجن کی وجہ سے وہ آسمان روحانیت کی طرف پرواز کرنے لگ جاتاہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ پرندے کی دوخاصیتیں ہوتی ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ اونچاجاتاہے۔یعنی فضامیںاڑتاہے۔دوسرے یہ کہ اس کا آشیانہ ہمیشہ اونچاہوتاہے۔اور بہت شاذ ونادر ایسا ہوتاہے کہ اس کاآشیانہ اونچی جگہ نہ ہو۔جو پرندے آشیانوں میںرہتے ہیں۔وہ بھی درختوں کی ٹہنیوں پر آشیانہ بناتے ہیںاور جوبغیر آشیانے کے رہتے ہیںوہ بھی کسی درخت پربسیرا کرتے ہیںنیچے نہیںبیٹھتے۔یہی دوخاصیتیں قرآن کریم میں مومنوں کے متعلق بیان کی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ اِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ(المجادلۃ:۱۲) اے مومنو جب تمہیںکہا جائے کہ اٹھو تو فوراً اٹھ کھڑے ہوا کرو۔اور نبی یااس کے خلیفہ کی آواز پردوڑ پڑاکرو۔کیونکہ يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ کہ اس کے نتیجہ میںاللہ تعالیٰ ان لوگو ں کوجوتم میں سے مومن ہیںاونچا کردےگا۔گویا اوپر اڑنے کی خاصیت کا مومنوں کے متعلق بھی ذکر آگیا۔دوسری خاصیت یہ تھی کہ پرندے اپنا آشیانہ ہمیشہ اونچا بناتے ہیں۔اس کا بھی مومنوں میںپایا جانا قرآن کریم سے ثابت ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ يُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ١ۙ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۔رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِيْتَآءِ الزَّكٰوةِ (النور:۳۷۔۳۸) فرماتا