تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 74

جنہوں نے ارد گرد کے قبائل پرفتح پائی اور وہ ان کے ماتحت ہوگئے۔حضرت دائود ؑ سے پہلے کوئی بادشاہ ایسا نہیں ہواجس نے اپنی قوم کے علاوہ دوسری اقوام پر بھی حکومت کی ہو لیکن حضرت دائود پہلے بادشاہ تھے جن کے ارد گرد کے حکمران ان کے مطیع ہوگئے تھے اگر کوئی کہے کہ قرآن میںتو يُسَبِّحْنَ کالفظ آیا ہے تم اس کے معنے مطیع کے کس طرح کرتے ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ جبال چونکہ مؤنث ہے اس لئے يُسَبِّحْنَ کالفظ آیا ہے۔ورنہ اس کامطلب یہی ہے کہ وہ قومیںآپ کی مطیع ہوگئی تھیں۔اور پھر اقوام کا لفظ بھی عربی میں مؤنث ہے۔کیونکہ وہ جمع ہے اور جمع مؤنث ہوتی ہے۔باقی رہے طیور۔سو طیور کے لئے تسبیح قرآن میںآئی ہی نہیںاور اس امر کاکہیںذکر نہیں کہ وہ حضرت دائود ؑکے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے مگر لوگوں کو عربی کے ایک معمولی قاعدہ سے ناواقفیت کی وجہ سے دھوکا لگ گیا۔اور وہ خیال کرنے لگے کہ جبال کے ساتھ طیور بھی تسبیح کیا کرتے تھے۔حالانکہ قرآن کریم میںاللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ وَ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَ الطَّيْرَ یہاں طیر پرزبر ہے اور زبر دینے والا سَخَّرَ کالفظ ہے مطلب یہ ہے کہ ہم نے دائود ؑ کے لئے پہاڑ مسخر کردیئے تھے جو تسبیح کرتے تھے اسی طرح ہم نے طیر بھی مسخر کردیئے یہاں کوئی تسبیح کا ذکر نہیںصرف اتنے معنے کئے جاسکتے ہیں کہ انہیںپرندوں سے کام لینے کاعلم آتاتھا۔جیسے کبوتروں سے خبر رسانی کاکام لیا جاتاہے۔پس قرآن میں سَخَّرْ نَا الطَّیْرَہے يُسَبِّحْنَ کا فاعل الطَّیْرَ نہیں ہے۔دوسری آیت یہ ہے۔اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَ الْاِشْرَاقِ۔وَ الطَّيْرَ مَحْشُوْرَةً (ص:۱۹۔۲۰) یہاںبھی طَیْر کا ناصب سَخَّرَ ہے۔تیسری آیت یہ ہے وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَ الطَّيْرَ (سبا:۱۱) ہم نے دائودؑ پر بڑافضل کیا۔اور پہاڑوں سے کہااے پہاڑو !تم اس کے ساتھ گونج پیدا کرو اسی طرح ہم نے اسے پرندے بھی دئیے گویا یہاںبھی اٰتَیْنَاالطَّیْرَ فرمایاگیا ہے یہ نہیںکہاگیا کہ پرندے تسبیح کیا کرتے تھے۔غرض طیر کا ناصب یا سَخَّرَ ہے یا أَتَی ہے۔اور اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے حضرت دائود ؑ کو طیر بھی دئیے تھے لیکن میںکہتا ہوں اس کے معنے اگر تسبیح کے بھی کرلو تو جب زمین و آسمان کی ہرچیز تسبیح کررہی ہے تو پرندوں کی تسبیح میں کون سی عجیب بات ہوسکتی ہے مجھے ہمیشہ آجکل کے مسلمان مولویوں پرتعجب آیا کرتاہے کہ جب حضر ت دائود ؑ یاحضرت سلیمان ؑ یاحضرت عیسیٰ علیہم السلام کے متعلق کوئی آیت آئے تو اس کے وہ اور معنے لے لیتے ہیں لیکن اگر ویسی ہی آیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آجائے تو اس کے اور معنے کرلیتے ہیں۔حضرت دائود ؑ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہاڑ اس کے ساتھ تسبیح