تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 67
ہوئی۔اس مضمون کی طرف قرآن کریم کی اس آیت میں بھی اشارہ کیاگیا ہے کہ اِنَّاۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ كَمَاۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِيّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ (النساء:۱۶۴) یعنی اے محمد ؐرسول اللہ !ہم نے تیری طرف اسی طرح وحی نازل کی ہے جس طرح ہم نے نوح اور اس کے بعد آنے والے انبیاء کی طرف وحی کی تھی گویا قرا ٓن کریم کے رو سے عقائد کے متعلق پہلی وحی حضر ت نوح علیہ السلام کو ہوئی کیونکہ ا س زمانہ میںایک طرف تو انسانی دماغ کا ارتقاء اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ اس نے صفات الٰہیہ کا ادراک کرنا شروع کردیا تھااور دوسری طرف انسانوں میں وہ گنا ہ پید اہونے لگ گئے تھے جو تمدن کا ایک لازمی نتیجہ ہوتے ہیں پس خرابیوں کی اصلاح اور مزید روحانی ترقیات کادروازہ کھو لنے کے لئے حضرت نوح علیہ السلام کو پہلا شارع نبی بنا کر بھیجا گیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی حضرت نوح علیہ السلام کی شریعت کے پیرؤں میںسے ہی تھے۔چنانچہ قرآن کریم میںاللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ اِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِيْمَ (الصافات:۸۴)یعنی ابراہیم ؑ بھی نوح ؑ کے گروہ میں سے تھا اور چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے زمانہ کے نوح تھے اور نوح ؑوالا پیغام آپ کی وحی میں بھی شامل تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں نوح ؑ کا ذکر کرکے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر شریعت لعنت ہے تو پھر نوح ؑ کابھی انکار کرو جس کے ذریعہ نسل انسانی کے لئے شریعت کاآغاز ہو ا۔اور جس کے پیرؤں میںابراہیم جیسا جلیل القدر نبی بھی شامل تھااور اگر شریعت لعنت نہیں بلکہ ہمیشہ شریعت کاانکار کرنے والے سزا یاب ہوتے رہے ہیں جس طرح نوح ؑ کے زمانہ میں وہی لوگ تباہ ہوئے جنہوں نے نوح ؑکی بات ماننے سے انکار کردیاتھا۔اور وہی لوگ کامیاب ہوئے جو آپ کی ہدایت پرچلے تو اب بھی یاد رکھو کہ کامیابی انہی کو حاصل ہوگی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لارہے ہیں اور آپ کے مخالفوں کو سوائے ناکامی و نامرادی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔وَ دَاوٗدَ وَ سُلَيْمٰنَ اِذْ يَحْكُمٰنِ فِي الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ اور( یاد کر )دائود کو بھی اور سلیمان کو بھی جبکہ وہ دونوں ایک کھیتی کے جھگڑے میںفیصلہ کررہے تھے فِيْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِيْنَۗۙ۰۰۷۹ اس وقت جبکہ ایک قوم کے عامی لوگ اس کو کھا گئے تھے (یعنی تباہ کر گئے تھے) اور ہم ان کے فیصلہ کے گواہ تھے۔