تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 65
بیان کیاگیا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے پیرایا میں لوگوں کو سمجھانے کے لئے بیان فرما دیا تاکہ ظاہرپرست لوگ اس آیت سے قرآن کریم کی صرف ظاہر ی حفاظت ہی مرادنہ لے لیں بلکہ وہ سمجھیں کہ اس میں قرآن کریم کی معنوی حفاظت کابھی وعدہ کیا گیا ہے جس کے لئے مجددین اور مامورین کا ا ٓناضروری ہے اور اگر غور سے کام لیا جائے تو درحقیقت یہی وہ فوقیت ہے جو اسلام کو دوسرے مذاہب پر حاصل ہے۔ورنہ اگر صرف قصے اور روایات ہی کسی مذہب کی افضلیت ثابت کرنے کے لئے کافی ہوں تو ہندوؤں اور عیسائیوں کے ہاں بھی کچھ کم قصے نہیں اسلام کا فخر صرف اس بات میںہے کہ اللہ تعالیٰ ہر زمانہ میں اسلام کی صداقت کے ثبوت کے لئے ایسے مقدس انسان کھڑے کرتاہے جو خود اپنے وجود کو اسلام کی صداقت کے ثبوت کے طورپرپیش کرتے ہیں۔اور کہتے ہیںکہ اسلام کا خدا ہمارے ساتھ اب بھی کلام کرتا اور ہمیںاپنے غیب سے اطلاع دیتاہے۔اگر تمہارے اندر بھی سچائی پائی جاتی ہے تو آئو اور ہمارا مقابلہ کرلو مگر دنیا کے کسی مذہب کا پیرو اس مقابلہ میں کھڑانہیں ہوسکتا کیونکہ وہ جانتاہے کہ وہ صرف ایک مردہ مذہب کاپیرو ہے جواپنی زندگی کاکوئی تازہ ثبو ت پیش نہیںکرسکتا۔گویاان کی مثال اس درخت کی سی ہے جو جس کے پتے خزاںکی وجہ سے جھڑ گئے اب نہ وہ اپنے میووں سے کسی کا پیٹ بھر سکتاہے اور نہ اپنی چھاؤں میںکسی کو بٹھا سکتاہے۔لیکن اسلام ایک ثمرور درخت ہے۔جس کے شیریں پھلوں سے کوئی زمانہ بھی محروم نہیں رہتا۔اور اس طرح اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ہر زمانہ میںلوگوں پرروشن ہوتی رہتی ہے۔وَ لُوْطًا اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نبیوں کی بعثت کی بڑی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو اس چشمہ فیض تک پہنچائیں جس سے سیراب ہوئے بغیر ان کی روحانی زندگی قائم نہیںرہ سکتی یعنی اللہ تعالیٰ سے ان کو وابستہ کردیںاوراس سے اس کامضبوط پیوند کردیں۔اوریہ بات علوم روحانیہ کے حصول کے بغیر کبھی سرانجام نہیںدی جاسکتی۔وہی شخص روحانی امور میںلوگوں کو ہدایت دے سکتاہے جسے خدا تعالیٰ کی معرفت تامہ حاصل ہو اور اس کے قرب کے ذرائع اسے معلوم ہوں اور اس کی صفات کا باریک در باریک علم اسے حاصل ہو پس مدعی ماموریت کے لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ خود اس کی علمی غور وپر داخت کرے اور اسے ایسے روحانی علوم عطا فرمائے جو اس زمانہ کے لحاظ سے بے نظیر ہوں یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کے متعلق بیان فرمایا کہ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا اور اسی طرح اور کئی انبیا ءکے متعلق فرمایا کہ ہم نے انہیں اپنے علم سے نوازا تھادرحقیقت علمی معجزات ایک مامور کی صداقت معلوم کرنے کا بڑا زبردست ذریعہ ہوتے ہیں جن کے مقابلہ میں مخالفین بالکل گنگ ہوکر رہ جاتے ہیں۔یہ علمی معجزات اگرچہ دنیامیں ہر نبی کو ملتے چلے آئے ہیں مگر عظمت اور شان کے ساتھ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ