تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 64
وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِمْ اور ہم نے ان کو( لوگوں کا) امام بنایا۔وہ ہمارے حکم سے ان کو ہدایت دیتے تھے۔اورہم نے ان کی طرف فِعْلَ الْخَيْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِيْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا نیک کام کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی وحی کی اور وہ سب ہمارے عبادت گذار بندے تھے لَنَا عٰبِدِيْنَۚۙ۰۰۷۴وَ لُوْطًا اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّيْنٰهُ اور( ہم نے اسے) لوط ؑ( بھی بخشا) جسے ہم نے حکم بھی عطا کیا اورعلم بھی اور اس کو اس بستی سے نجات دی۔مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓىِٕثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا جوکہ نہایت گندے کام کرتی تھی۔وہ( یعنی لوط کے شہر کے رہنے والے )ایک بہت بری قوم قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِيْنَۙ۰۰۷۵وَ اَدْخَلْنٰهُ فِيْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ یعنی نافرمان تھے۔اور ہم نے اس (یعنی لوط) کو اپنی رحمت میں داخل کیا۔الصّٰلِحِيْنَؒ۰۰۷۶ وہ ہمارے نیک بندوںمیںسے تھا۔تفسیر۔فرماتا ہے یہ سب لوگ اپنے زمانہ کے امام تھے اور خدا تعالیٰ کے حکم کو دنیامیںپھیلاتے تھے بعینہٖ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمبھی فرماتے ہیںکہ اِنَّ اللہَ یَبْعَثُ لِھٰذِہٖ الْاُمَّۃِ عَلٰی رَأْسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُجَدِّدُ لَھَا دِیْنَھَا (ابو داؤد کتاب الملاحم باب ما یذکر فی قرن المائۃ) یعنی اللہ تعالیٰ میری امت میںبھی ہرصدی کے سرپر ایسے انسان مبعوث فرماتارہےگاجو دین اسلام کی تجدید کریں گے اور انسانوں کی داخل کی ہوئی خرابیوں کو دور کرکے اسلام کو پھرنئے سرے سے قائم کردیںگے۔یہ حدیث درحقیقت وہی مضمون بیان کررہی ہے جو قرآن کریم نےاِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر:۱۰) میں بیان فرمایا ہے۔یعنی ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیاہے اورہم ہی قیامت تک اس کی حفاظت کرتے رہیںگے۔گویاوہی مضمون جو قرآن کریم میں