تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 58
اوپر کی آیات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کارسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک زبردست مقابلہ کیا گیا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد بھی بچپن میں فوت ہو گئے تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد بھی آپ کی پیدائش سے پہلے فوت ہوگئے تھے اور دونوں کو ان کے چچائوں نے پالا تھا جو دونوں مشرک تھے دونوں نے اپنے چچائوںکو توحید کی تبلیغ کی مگر دونوں نے توحید کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔یہ دونوں نبی توحید پر بڑی مضبوطی سے قائم تھے اور دونوں علیٰ وجہ البصیر ت خدا تعالیٰ کو خالق ارض وسما سمجھتے تھے۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی بت توڑے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بت توڑے جب ان کی قوم کے لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بت توڑے جبکہ دوپہر کا وقت تھا اور کعبہ کے پاس تمام لوگ جمع تھے آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اسے آپ سارے مکہ والوں کے سامنے بتوں پر مارتے اور انہیںگراتے جاتے تھے اور کسی کی مجال نہیںتھی کہ وہ اُف بھی کر سکے۔(السیرۃ الحلبیۃ باب ذکر مغازیہ صلی اللہ علیہ وسلم، فتح مکۃ شرفھا اللہ تعالیٰ) ابراہیم ؑ بے شک بڑاآدمی تھا مگر کتنا فرق ہے ابراہیم ؑ میںاور میرے محمد ؐمیں اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ وَ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَدَدَ کُلِّ ذَرَّۃٍ فِی السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ بَلْ اَکْثَرَ۔قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَ۰۰۶۹ (اس پر وہ غصہ میں آکر ) کہنے لگے اس شخص کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم نے کچھ کرنے کا ارادہ قُلْنَا يٰنَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِيْمَۙ۰۰۷۰وَ اَرَادُوْا کیا ہے تب ہم نے کہا اے آگ تو ابراہیم ؑ کے لئے ٹھنڈی بھی ہوجا اور اس کے لئے سلامتی کاباعث بھی بن جا۔بِهٖ كَيْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِيْنَۚ۰۰۷۱ اور انہوں نے اس سے کچھ برا سلوک کرناچاہا مگر ہم نے ان کو ناکام بنادیا۔حلّ لُغَات۔الْکَیْدُ۔اَلْکَیْدُ اَلْمَکْرُ وَ الْخُبْثُ تدبیر اور کسی کے ساتھ شرارت کرنا۔اَلْحِیْلَۃُ۔حیلہ اَلْحَرْبُ۔لڑائی۔نیز اس کے معنے ہیں اِرَادَةُ مَضَرَّةِ الْغَیْرِ خُفْیَةً دوسرے کواس طور پر نقصان پہنچانا کہ اس کو معلوم نہ ہو۔(اقرب)