تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 616
وسیع خلیج حائل ہو جا ئےگی۔اور قوم کے ایک حصہ میں احساسِ کمتری پیدا ہو جائےگا جو انہیں کچل کر رکھ دےگا۔اور تمہاری قوم کبھی ترقی حاصل نہیں کر سکے گی۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے وَ فِیْ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِٓ وَالْمَحْرُوْمِ (الذاریا ت:۲۰) کی تعلیم دی اور بتا یا کہ تمہارے اموال میں نہ صرف وہ لوگ شریک ہیں جو مطالبہ کر کے تم سے اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں بلکہ وہ لوگ شریک ہیں جو بیمار اور کمزور اور معذور ہیں۔دنیا نے ایک لمبے عرصہ تک انسانیت کے ایک بڑے حصہ کی توہین کی یہاں تک کہ ہندومت نے برہمن۔ویش ،کھشتری اور شودر کی تقسیم کر کے بنی نوع انسان کو الگ الگ ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔اور شودر کا یہ فرض قرار دیا کہ برہمن کی خدمت کر ے اور کبھی اپنے حقوق کا مطالبہ نہ کرے بلکہ منوجی نے تو کہا کہ ’’ اگر شودر دھن جمع کرے تو راجہ کا فرض ہے کہ وہ اُس سے چھین لے کیونکہ شودر مالدار ہو کر براہمنوں کو دکھ دیتا ہے۔‘‘ (منو ادھیائے ۱۰ شلوک ۱۲۹) اسی طرح انہوں نے یہ تعلیم دی کہ ’’ برہمن شودر سے دولت لے لے۔اس میں کوئی وچار نہ کرے کیونکہ وہ دولت جو اس نے جمع کی ہے وہ اُس کی نہیں بلکہ برہمن کی ہے۔‘‘ ( منو ادھیائے ۸ شلوک ۴۱۷) گویا براہمنوں کو اجازت دے دی گئی کہ جب بھی تمہیں کسی شودر کے پاس دولت دکھائی دے تم فوراً اس سے چھین لو اور یہ مت خیال کرو کہ ایسا کرنا گناہ ہوگا کیونکہ شودر کا مال اس کا نہیں بلکہ تمہارا ہے۔یہودیت آئی تو اُس نے بھی اندھوں اور لنگڑوں اور بیماروں کو اپنی سوسائٹی سے الگ قرار دےدیا اور انہیں ناپاک سمجھنے کا حکم دیا۔(گنتی باب ۵ آیت ۲ و احبار باب ۱۳ و باب ۲۱ آیت ۱۶ تا ۲۱)مدینہ اور اس کے نواحی میں بھی چونکہ اسلام سے پہلے زیادہ تر یہود کی آباد ی تھی اس لئے اُن میں بھی اندھوں اور لنگڑوں اور بیماروں کے ساتھ علیٰحدہ سلوک کیا جاتا تھا۔اور وہ اُن کے ساتھ کھانا کھانے یا انہیں اپنی دعوتوں وغیرہ میں شریک کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے تھے۔یہ یہودی اثر اتنا غالب تھا کہ جب حضرت مسیح آئے تو اُن پر بھی یہ اعتراض کیا گیا کہ یہ محصول لینے والوں کے ساتھ کھانا کھاتا ہے چنانچہ انجیل میں لکھا ہے ’’ جب وہ گھر میں کھانا کھانے بیٹھا تھا تو ایسا ہوا کہ بہت سے محصول لینے والے اور گنہگار آکر یسوع اور اس کے شاگردوں کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے۔فریسیوں نے یہ دیکھ کر اس کے شاگردوں سے کہا تمہارا اُستاد محصول لینے والوں اور گنہگار وں کے ساتھ کیوں کھاتا ہے۔‘‘ (متی باب ۹ آیت ۱۰ ، ۱۱)