تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 615
کا حامل تھا اور دنیا کا ایک مقبول طبقہ اسے اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتا تھا۔مگر یہودیت دنیا کو جو تعلیم دے رہی تھی اس کا ایک ہلکا سا اندازہ ان آیا ت سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’ پھر خدا وند نے موسیٰ سے کہا کہ ہارون سے کہہ دے کہ تیری نسل میں پشت درپُشت اگر کوئی کسی طرح کا عیب رکھتا ہو تو وہ اپنے خدا کی غذا گذراننے کو نزدیک نہ آئے خواہ کوئی ہو جس میں عیب ہو وہ نزدیک نہ آئے خواہ وہ اندھا ہو یا لنگڑا یا نک چپٹا ہو یا زائد الاعضاء یا اس کا پائوں ٹوٹا ہو یا ہاتھ ٹوٹا ہو یا وہ کُبڑا یا بونا ہو یا اس کی آنکھ میں کچھ نقص ہو یا کھجلی بھرا ہو یا اس کے پپڑیاں ہوں یا اس کے خصیے پچکے ہوں۔ہارون کا ہن کی نسل میں سے کوئی جو عیب دار ہو۔خداوند کی آتشین قربانیاں گذراننے کو نزدیک نہ آئے۔وہ عیب دار ہے۔وہ ہرگز اپنے خدا کی غذا گذراننے کو پاس نہ آئے وہ اپنی خدا کی نہایت ہی مقدس اور پاک دونوں طرح کی روٹی کھائے۔لیکن پردہ کے اندر داخل نہ ہو۔نہ مذبح کے پاس آئے اس لئے کہ وہ عیب دار ہے۔تاایسا نہ ہو کہ وہ میرے مقدس مقاموں کو بےحرمت کرے۔‘‘ ( احبار باب ۲۱ آیت ۱۶ تا ۲۳) اس تعلیم پر غور کرو اور دیکھو کہ اندھوں اور لنگڑوں اور بیماروں اور معذوروں کو کس حقارت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔کس طرح انہیں مقدس مقامات سے دُور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔کس طرح انہیں ناپاک قرار دے کر سوسائٹی کا ایک ناکارہ عضو قرار دیا گیا ہے۔کیا اس تعلیم کی موجودگی میں کوئی بھی بیمار اور معذور اس پر خوش ہو سکتا ہے ؟ اور کیا وہ یہودیت کو اپنی نجات کا ضامن قرار دے سکتا ہے جو مذہب اس کے خلقی عیوب کی وجہ سے اُسے ناپاک قرار دیتا ہے وہ روحانیت میں اُسے کونسا درجہ دینے کے لئے تیار ہو سکتا ہے ؟ یہ ستم ایک لمبے عرصہ تک جاری رہا۔اُنیس سو سال تک بیماروں اور معذوروں کی آہیں آسمان کی طرف بلند ہوتی رہیں اور وہ خدا تعالیٰ کے رحم و کرم کے دروازہ کو کھٹکھٹاتی رہیں۔آخر خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا اور اُس نے آپ کے ذریعہ دنیا کو یہ تعلیم دی کہ لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِيْضِ حَرَجٌ یعنی اندھوں اور لنگڑوں اور بیماروں کو حقارت کی نگاہ سے مت دیکھو وہ بھی تمہارے بھائی ہیں اور تمہاری سوسائٹی کا ایک اہم جزو ہیں اُن کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنا اور انہیں اپنے تمدنی اور معاشرتی حلقہ سے منقطع کر دینا انسانیت کے شرف اور اس کی عظمت کی توہین کرنا ہے۔اس لئے ہم تمہیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ ان معذوروں کو بھی اپنی سوسائٹی کا ایک حصہ سمجھ لو اور اُن سے چھوت چھات مت کرو اگر ایسا کرو گے تو معذوروں اور ادنیٰ درجہ کے لوگوں اور امراء اور اعلیٰ خاندانوں میں ایک