تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 607
سے محروم ہوتا ہے اس لئے بہتر ہے کہ اُسی وقت حملہ کرو۔اسی طرح دوپہر کا وقت حفاظتی نقطۂ نگاہ سے بڑی بھاری اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جبکہ بالعموم لوگ غافل ہو جاتے ہیں اور حملہ آور ہمیشہ ایسے موقعوں کی تاک میں رہتے ہیں جبکہ لوگ غفلت کی نیند سو رہے ہوں صحابہ ؓ سے ایک دفعہ دوپہر کے وقت اسی قسم کی غلطی ہوئی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حملہ آور تلوار لےکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر کھڑا ہو گیا اور اُس نے چاہا کہ آپ کو قتل کر دے۔مگر اللہ تعالیٰ کا فضل آپ کے شاملِ حال ہوا اور اُس نے دشمن کو اپنے بد ارادہ میں ناکام کر دیا۔یہ واقعہ غزوۂ ذات الرقاع سے واپسی کے وقت پیش آیا۔دوپہر کے وقت صحابہ ؓ اِدھر اُدھر پھیل گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی آرام فرمانے کے لئے ایک درخت کے نیچے لیٹ گئے۔چونکہ مدینہ قریب آگیا تھا۔اس لئے انہوں نے سمجھا کہ اب کسی دشمن کے حملہ کا کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا ہے۔مگر دشمن تاک میں تھا۔جب صحابہ ؓ ادھر اُدھر پھیل گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی شخص حفاظت کے لئے نہ رہا تو ایک شخص آگے بڑھا اور اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی تلوار اٹھا کر آپ کو جگایا اور پوچھا کہ بتائیں اَب آپ کو میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسی طرح لیٹے لیٹے نہایت اطمینان سے فرمایا کہ اللہ۔آپ کا یہ جواب دینا تھا کہ اس کے جسم پر کپکپی طاری ہوئی اور تلوار اُس کے ہاتھ سے گر گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً وہی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور پھر اُس سے پوچھا کہ بتا اب تجھے میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے۔وہ کہنے لگا۔آپ ہی رحم کریں تو کریں۔آپ نے فرمایا۔کمبخت تو نے میرے مونہہ سے ہی اللہ کا نام سن کر کہہ دینا تھا کہ اللہ مجھے بچائےگا۔مگر تجھ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ میری نقل ہی کر لیتا۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ ؓ کوبلایا اور فرمایا کہ یہ شخص مجھے قتل کرنے کے لئے آیا تھا مگر خدا نے مجھے اس کے حملہ سے بچالیا ( بخاری کتاب المغازی باب غزوة ذات الرقاع) اب دیکھو وہ بھی دوپہر ہی کا وقت تھا جب وہ شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کے لئے آیا۔اسی طرح مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِکے الفاظ میں رات کے وقت ہوشیار رہنے کی نصیحت کی گئی ہے۔اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں انصار اپنی مرضی سے رات کے وقت آپ کے گھر کا پہرہ دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ رات کے وقت آپ کو باہر ہتھیاروں کے چھنکار کی آواز آئی۔آپ نے نکل کر دیکھا تو ایک انصاری سردار بو لے کہ یا رسول اللہ ! آپ اطمینان سے آرام فرمائیے۔آج کل دشمنوں میں آپ کے خلاف بڑا جوش پایا جاتا ہے۔میں نے اپنی قوم سے کہا کہ چلو ہتھیار لےکر آپ کا پہرہ دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے خوش ہوئے اور آپ نے انہیں دعا دی(بخاری کتاب الجھاد باب الحراسة فی الغزو فی سبیل اللہ )۔پس یہ تین کمزوری