تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 606 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 606

اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۰۰۶۰ بہت جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْحُلُمُ۔مفردات امام راغب ؒ میں ہے اِذَ ابَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ اَیْ زَمَانَ الْبُلُوْغِ۔یعنی آیت اِذَ ابَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ میںاَلْحُلُمُ کے معنے زمانہ ٔ بلوغت کے ہیں۔( مفردات) تفسیر۔یہ آیت بظاہر ایک بے جوڑ آیت معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے خلافت کا ذکر ہے اور اس آیت میں گھریلو معاملات کا ذکر شروع ہو گیا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو درحقیقت استعارۃً اس آیت میں بھی استحکام قومی کا ہی ذکر ہے۔اس آیت میں کہا گیا ہے کہ غلام اور بچے تین وقتوں میں یعنی صبح کی نماز سے پہلے۔دوپہر کے وقت اور عشا ء کی نماز کے بعد اجازت لے کر گھر میں داخل ہوا کریں کیونکہ یہ تین وقت ایسے ہوتے ہیں جبکہ لوگ کپڑے اتار کر آرام کر رہے ہوتے ہیں ہاں ان وقتوں کے آگے پیچھے یہ لوگ بغیر اجازت گھروں میں آجا سکتے ہیں۔اس آیت میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ کچھ وقت انسان پر غفلت کے بھی آتے ہیں ایسی غفلت کے اوقات میں بہت ہوشیار رہنا چاہیے۔اور غلاموں اور بچوں کو بھی بغیر اجازت گھر میں داخل نہیں ہونے دینا چاہیے۔اسی طرح اس آیت میں یہ پیشگوئی بھی پائی جاتی ہے کہ جب مسلمانوں کو قومی طورپر غلبہ حاصل ہو گا تو غلاموں کا رواج اُن میں بڑھ جائےگا۔چنانچہ اندلس اور بغداد میں زیادہ تر کام غلاموں سے ہی لیا گیا اور یہی مسلمانوں کی تباہی کا موجب ہوا۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس آیت کے مضمون کو محض گھریلو مضمون نہ سمجھا جاتا بلکہ یہ سمجھا جاتا کہ یہ آیت چونکہ خلافت کے ذکر کے بعد آئی ہے اس لئے اس میں کوئی قومی مضمون بیان ہوا ہے تو مسلمان اپنی کمزوری کے وقتوں میں اور زیادہ ہوشیار ہو جاتے جیسا کہ حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ کے آخری ایام میں۔اور کسی غیر کو خواہ وہ کتنا ہی بےضرر نظر آتا اپنے نظام کے پاس تک نہ پھٹکنے دیتے۔اگر وہ ایسا کرتے تو نہ حضرت عثمان ؓ کی شہادت ہوتی اور نہ حضرت علی ؓ کی۔حضرت علی ؓ کی شہادت صبح کی نماز کے وقت ہوئی تھی(البدایة والنھایة ذکر مقتل امیر المؤمنین علیؓ بن ابی طالب۔صفۃ مقتلہ ؓ)۔اگر مسلمان اس آیت کے مضمون کے مطابق حضرت علی ؓ کے گھر کا اُس وقت پہرہ دے رہے ہوتے تو ایک فاسق خارجی کی کیا مجال تھی کہ آپ پر حملہ کرتا۔اُس نے مِنْ قَبْلِ صَلٰوۃِ الْفَجْرِکا وقت شائد اسی آیت سے نکالا ہواور سمجھا ہو کہ خدا تعالیٰ نے اس وقت کو ننگا ہونے کا وقت قرار دیا ہے۔یعنی جب آدمی حفاظت