تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 601
رہے تھے۔اور جس طرح شیعہ کہتے ہیں کہ امت میں صرف اڑہائی مومن تھے۔اسی طرح نعوذ باللہ سب منافق ہی منافق رہ گئے تھے اس لئے خلافت ِ قومی کا وعدہ اُن سے پورا نہ ہوا۔اور یا یہ مانو کہ خلافت کا طریق وہی تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عملاً جاری ہوا بہرحال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں جس رنگ میں خلافت قائم کی وہ خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت ہے اور خدا تعالیٰ کی یہ فعلی شہادت بتا رہی ہے کہ قوم سے اس وعدہ کو بعض افراد کے ذریعہ ہی پورا کیا جائےگا۔دوسرا اعتراض اس آیت پر یہ کیا جاتا ہے کہ بہت اچھا ہم نے مان لیا کہ اس آیت میں افراد کی خلافت کا ذکر ہے مگر تم خود تسلیم کرتے ہو کہ پہلوں میں خلافت یا نبوت کے ذریعہ سے ہوئی یا ملوک کے ذریعہ سے مگر خلفاء ِ اربعہ کو نہ تم نبی مانتے ہو نہ ملو ک۔پھر یہ وعدہ کس طرح پورا ہو ا۔اور وہ اس آیت کے کس طرح مصداق ہوئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلوں کو خلافت یا نبوت کی شکل میں ملی یا ملوکیت کی صورت میں۔مگر مشابہت کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ ہر رنگ میں مشابہت ہو بلکہ صرف اصولی رنگ میں مشابہت دیکھی جاتی ہے۔مثلاً کسی لمبے آدمی کا ہم ذکر کریں اور پھر کسی دوسرے کے متعلق کہیں کہ وہ بھی ویسا ہی لمبا ہے تو اب کوئی شخص ایسا نہیں ہوگا جو یہ کہے کہ جب تم نے دونوں کو لمبا قرار دیا ہے تو یہ مشابہت کس طرح درست ہوئی اُن میں سے ایک چور ہے اور دوسرا نمازی۔یا ایک عالم ہے اور دوسرا جاہل بلکہ صرف لمبائی میں مشابہت دیکھی جائےگی ہر بات اور ہر صورت میں مشابہت نہیں دیکھی جائےگی۔اس کی مثال ہمیں قرآن کریم سے بھی ملتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا(المزمل :۱۶) کہ ہم نے تمہاری طرف اپنا ایک رسول بھیجا ہے جو تم پر نگران ہے اور وہ ویسا ہی رسول ہے جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے یہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آپس میں مشابہت بیان کی ہے حالانکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کی طرف بھیجے گئے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایک بادشاہ کی طرف مبعوث نہیں ہوئے تھے بلکہ ساری دنیا کے بادشاہوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رسالت کا زمانہ صرف انیس سو سال تک تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا زمانہ قیامت تک کے لئے ہے۔یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات میں اہم فرق ہیں۔مگر باوجود ان اختلافا ت کے مسلمان یہی کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مثیل