تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 600
ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ کسی دوست نے ایک غیر مبائع کے متعلق بتا یا کہ وہ کہتے ہیں عقائد تو مولوی محمد علی صاحب کے درست ہیں مگر دعائیں میاں صاحب کی زیادہ قبول ہوتی ہیں۔گویا جیسے ابوہریرہؓ نے کہا تھا کہ روٹی معاویہ ؓ کے ہاں اچھی ملتی ہے اور نماز علی ؓ کے ہاں اچھی ہوتی ہے اسی طرح اُس نے کہا کہ عقائد تو مولوی محمد علی صاحب کے درست ہیں مگر دعائیں ان کی قبول ہوتی ہیں۔تو قوم میں بادشاہت آجانے کے باوجود پھر بھی کئی لوگ غریب ہی رہتے ہیں۔مگر کہا یہی جاتا ہے کہ وہ قوم بادشاہ ہے کیونکہ جب کسی قوم میں سے کوئی بادشاہ ہوتو تمام قوم بادشاہت کے فوائد سے حصہ پاتی ہے۔اسی طرح جب کسی قوم میں سے بعض افراد کو خلافت مل جائے تو یہی کہا جائےگا کہ اُس قوم کو وہ انعام ملا ہے۔یہ ضروری نہیں ہوگا کہ ہر فرد کو یہ انعام ملے۔دوسری مثال اس کی یہ آیت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْ ا نُؤمِنُ بِمَا اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَیَکْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآئَ ہٗ ( البقرۃ :۹۲)کہ جب یہود سے یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن مجید میں جو کچھ اُترا ہے اُس پر ایمان لائو تو وہ کہتے ہیں نُوْمِنُ بِمَا اُنْزِلَ عَلَیْنَا ہم تو اسی پر ایمان لائیں گے جو ہم پر نازل ہوا ہے اور یہ امر صاف ظاہر ہے کہ وحی اُن پر نہیں اُتری تھی بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اُتری تھی۔مگر وہ کہتے ہیں ہم پر اُتری۔گویا وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کلام کے متعلق اُنْزِلَ عَلَیْنَا کہتے ہیں۔اسی طرح بعض افراد پرجو اس قسم کا انعام نازل ہو جس سے ساری قوم کو فائدہ پہنچتا ہو تو یہی کہا جاتاہے کہ وہ ساری قوم کو ملا۔چونکہ ملوکیت کے ذریعہ سے ساری قوم کی عزت ہو تی ہے اس وجہ سے جَعَلَکُمْ مُلُوْکًا فرمایا۔اور چونکہ خلافت سے سب قوم نے نفع اٹھانا تھا اس لئے خلافت کے بارہ میں بھی یہی کہا کہ تم کو خلیفہ بنایا جائےگا۔دوسرا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے فعل نے اس امر پر شہادت دے دی ہے کہ اُس کی اس آیت سے کیا مراد ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ کہا تھا کہ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ کہ وہ ایمان اور عمل صالح پر قائم رہنے والوں کو زمین میں اُسی طرح خلیفہ بنائےگا جس طرح اُس نے پہلوں کو خلیفہ بنایا اب اگر اللہ تعالیٰ کی اس سے جمہوریت مراد تھی تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ آیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ جمہوریت قائم ہوئی یا نہیں۔اور اگر خدا تعالیٰ کا یہ منشاء تھا کہ بعض افرادِ امت کو خلافت ملے گی اور اُن کی وجہ سے تمام قوم برکات خلافت کی مستحق قرار پا جائے گی تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا اس رنگ میں مسلمانوں میں خلافت قائم ہوئی یا نہیں ؟ اس نقطۂ نگاہ کے ماتحت جب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کے حالات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بعض افراد امت کو ہی خلافت ملی تھی۔سب کو خلافت نہیں ملی۔پس یا تو یہ مانو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد لوگ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کے مصداق نہیں