تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 589

دخلت سنۃ خمس و ثلاثین)۔آخر انہوں نے کہا اگر آپ اور کچھ منظور نہیں کرتے تو اتنا ہی کریں کہ شرارتی لوگوں کو بعض اکا بر صحابہ ؓ کے متعلق گھمنڈ ہے اور وہ خیال کر تے ہیں کہ آپ کے بعد وہ کام سنبھال لیں گے۔چنانچہ وہ ان کا نام لے لے کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔آپ ان سب کو مدینہ سے رخصت کردیں اور بیرونی ملکوں میں پھیلا دیں۔اس سے شریروں کے ارادے پست ہو جائیں گے اور وہ خیال کریں گے کہ آپ سے تعرض کر کے انہوں نے کیا لینا ہے جبکہ مدینہ میں کوئی اور کام کو سنبھالنے والا ہی نہیں۔مگر حضرت عثمان ؓ نے یہ بات بھی نہ مانی اور کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع کیا ہے۔میں اُن کو جلا وطن کردوں۔حضرت معاویہ ؓ یہ سُن کر رو پڑے اور انہوں نے عرض کیا۔اگر آپ اور کچھ نہیں کرتے تو اتناہی اعلان کر دیں کہ میرے خون کا بدلہ معاویہؓ لےگا۔مگر آپ نے فرمایا معاویہؓ ! تمہاری طبیعت تیز ہے میں ڈرتا ہوں کہ مسلمانوں پر تم کہیں سختی نہ کرو۔اس لئے میں یہ اعلان بھی نہیں کر سکتا۔اب کہنے کو تو یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت عثمان ؓ دل کے کمزور تھے مگر تم خود ہی بتائو کہ اس قسم کی جرأت کتنے لوگ دکھا سکتے ہیں اور کیا ان واقعات کے ہوتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اُن کے دل میں کچھ بھی خوف تھا۔اگر خوف ہوتا تو وہ کہتے کہ تم اپنی فوج کا دستہ میری حفاظت کے لئے بھجوادو۔انہیں تنخواہیں میں دلوائوں گا۔اور اگر خوف ہوتا تو آپ اعلان کر دیتے کہ مجھ پر کسی نے ہاتھ اٹھایا تو وہ سُن لے کہ میرا بدلہ معاویہ ؓلےگا۔مگر آپ نے سوائے اس کے کوئی جواب نہ دیا کہ معاویہ ؓ ! تمہاری طبیعت تیز ہے۔میں ڈرتاہوں کہ اگر میں نے تم کو یہ اختیار دے دیا تو تم مسلمانوں پر سختی کروگے۔پھر جبکہ آخر میں دشمنوں نے دیوار پھاند کر آپ پر حملہ کیا تو کس دلیر ی سے آپ نے مقابلہ کیا۔بغیر ڈر اور خوف کے اظہار کے آپ قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت ابوبکر ؓ کا ایک بیٹا محمد بن ابی بکر ؓ جو ابن حنفیہ کہلاتا ہے ( اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے)آگے بڑھا اور اُس نے حضرت عثمانؓ کی داڑھی پکڑ کر اُسے زور سے جھٹکا دیا۔حضرت عثمان ؓ نے اُس کی طرف آنکھ اٹھائی اور فرمایا میرے بھائی کے بیٹے ! اگر تیرا باپ اس وقت ہوتا تو تجھے کبھی ایسا کرنے نہ دیتا۔یہ سن کر اس کا جسم کانپ گیا۔اور وہ شرمندہ ہو کر واپس لوٹ گیا۔اس کے بعد ایک اور شخص آگے بڑھا او ر اُس نے ایک لوہے کی سیخ حضرت عثمانؓ کے سرپر ماری اور پھر آپ کے سامنے جو قرآن کریم پڑا ہوا تھا اُسے اپنے پائوں کی ٹھوکر سے الگ پھینک دیا۔وہ ہٹا تو ایک اور شخص آگے آگیا اور اُس نے تلوار سے آپ پر حملہ کیا جس سے آپ کا ہاتھ کٹ گیا پھر اُس نے دوسرا وار کیا۔مگر آپ کی بیوی حضرت نائلہ درمیان میں آگئیں جس سے اُن کی انگلیاں کٹ گئیں۔اس کے بعد اُس نے ایک اور وار کیا جس سے آپ زخمی ہو کر گر گئے مگر پھر اُس نے یہ خیال کر کے کہ ابھی آپ کی جان نہیں نکلی ایسی حالت میں جبکہ زخموں کی شدت کی وجہ