تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 588 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 588

بلندیٔ درجات کا موجب سمجھتے ہوں تو اُسے خوف کہنا اور پھر یہ کہنا کہ اسے امن سے کیوں نہ بدل دیا گیا بے معنی بات ہے۔میں نے تو جب حضرت عمر ؓ کی اس دعا کو پڑھاتو میں نے اپنے دل میں کہا کہ اس کا بظاہر یہ مطلب تھا کہ دشمن مدینہ پر حملہ کرے اور اُس کا حملہ اتنی شدت سے ہو کہ تمام مسلمان تباہ ہو جائیں پھر وہ خلیفہ ٔ وقت تک پہنچے اور اُسے بھی شہید کر دے۔مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر ؓ کی دعا بھی قبول کر لی۔اور ایسے سامان بھی پیدا کر دئے جن سے اسلام کی عزت قائم رہی۔چنانچہ بجائے اس کے کہ مدینہ پر کوئی بیرونی لشکر حملہ آور ہوتا اندر سے ہی ایک خبیث اٹھا اور اُس نے خنجر سے آپ کو شہید کر دیاپھر حضرت عثمان ؓ کے ساتھ جو واقعات پیش آئے ان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان باتوں سے کبھی خائف نہیں ہوئے۔تاریخ سے ثابت ہے کہ جب باغیوں نے مدینہ پرقبضہ کر لیا تو وہ نماز سے پہلے تمام مسجد میں پھیل جاتے۔اور اہل مدینہ کو ایک دوسرے سے جدا جدا رکھتے تاکہ وہ اکٹھے ہو کر اُن کا مقابلہ نہ کر سکیں۔مگر باوجود اس شورش اور فتنہ انگیزی اور فساد کے حضرت عثمان ؓ نمازپڑھانے کے لئے اکیلے مسجد میں تشریف لاتے اور ذرا بھی خوف محسوس نہ کرتے اور اس وقت تک برابر آتے رہے جب تک لوگوں نے آپ کو منع نہ کردیا۔جب فتنہ بہت بڑھ گیا اور حضرت عثمانؓ کے گھر پر مفسدوں نے حملہ کر دیا۔تو بجائے اس کے کہ آپ صحابہ ؓ کا اپنے مکان کے گرد پہرہ لگواتے۔آپ نے انہیں قسم دے کر کہا کہ وہ آپ کی حفاظت کر کے اپنی جانوں کو خطرہ میں نہ ڈالیں اور اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں(البدایۃ والنھایۃ ذکر حصر امیرالمؤمنین عثمان بن عفوان)۔کیا شہادت سے ڈرنے والا آدمی بھی ایسا ہی کیا کرتا ہے ؟ اور وہ لوگوں سے کہا کرتا ہے کہ میرا فکر نہ کرو بلکہ اپنے اپنے گھروں کو چلے جائو؟ پھر اس بات کا کہ حضرت عثمان ؓ ان واقعات سے کچھ بھی خائف نہیں تھے ایک اور زبردست ثبوت یہ ہے کہ اس فتنہ کے دوران میں ایک دفعہ حضرت معاویہؓ حج کرنے آئے۔جب وہ شام کو واپس جانے لگے تو مدینہ میں وہ حضرت عثمان ؓ سے ملے اور عرض کیا کہ آپ میرے ساتھ شام میں چلیں۔وہاں آ پ تمام فتنوں سے محفوظ رہیں گے آپ نے فرمایا کہ معاویہ ! میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسائیگی پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دے سکتا۔انہوں نے عرض کیا کہ اگر آپ کو یہ بات منظور نہیں تو میں شامی سپاہیوں کا ایک لشکر آپ کی حفاظت کے لئے بھیج دیتا ہوں۔حضرت عثمان ؓ نے فرمایا میں اپنی حفاظت کے لئے ایک لشکر رکھ کر مسلمانوں کے رزق میں کمی کرنا نہیں چاہتا۔حضرت معاویہ ؓ نے عرض کیا کہ امیر المومنین لوگ آ پ کو دھوکا سے قتل کر دیں گے۔یا ممکن ہے آپ کے خلاف وہ بر سرِ پیکار ہو جائیں۔حضرت عثمان ؓ نے فرمایا مجھے اس کی پرواہ نہیں۔میرے لئے میرا خدا کافی ہے (الکامل فی التاریخ لابن اثیر ثم دخلت سنة خمس و ثلاثین والبدایة والنھایۃ ذکرحصر امیر المؤمنین عثمان بن عفانؓ،تاریخ طبری زیر عنوان ثم