تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 585 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 585

سے تعلق رکھنے والے لوگ بہت کم تھے۔پھر بھی دنیامیں جو عزّت اور رتبہ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے فتووں اور ارشادات کو حاصل ہے وہ ان دونوں کو حاصل نہیں۔گو ان سے اُتر کر انہیں بھی حاصل ہے اور یہ ثبوت ہے وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ کا کہ خدا نے اُن کے دین کو قائم کیا۔اور اُن کی عزت کو لوگوں کے قلوب میں جاگزیں کیا۔چنانچہ آج کسی مسلمان سے پوچھ لو کہ اس کے دل میں خلفا ء میں سے سب سے زیادہ کس کی عزت ہے تو وہ پہلے حضرت ابوبکر ؓ کا نام لےگا۔پھر حضرت عمر ؓ کانام لےگا۔پھر حضرت عثمان ؓ کا نام لے گا اور پھر حضرت علیؓ کا نام لے گا۔حالانکہ کئی صدیاں ایسی گذری ہیں جن میں حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کا نام لینے والا کوئی نہیں تھا اور اتنے لمبے وقفہ میں بڑے بڑے لوگوں کے نام دنیا سے مٹ جایا کرتے ہیں لیکن خدا نے اُن کے نام کو قائم رکھا اور اُن کے فتووں اور ارشادات کو وہ مقام دیا جو حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ کے فتووں اور ارشادات کو بھی حاصل نہیں۔پھر بنو عبدالشمس کے زمانہ میں حضرت علی ؓ کو بدنام کرنے کی بڑی کوششیں کی گئیں اور دولتِ عباسیہ کے زمانہ میں حضرت عثمان ؓ پر بڑا لعن طعن کیا گیا۔مگر باوجود اس کے کہ یہ کوششیں حکومت کی طرف سے ہوئیں اور انہوں نے اپنے اپنے زمانوں میں اُن کو بدنام کرنے اور اُن کے ناموں کو مٹانے کے لئے بڑی کوشش کی مگر پھر بھی یہ دونوں خلفاء دُھلے دھلائے نکل آئے اور خدا نے تمام عالمِ اسلام میں اُن کی عزت و توقیر کو قائم کر دیا۔پھر دین کے ایک معنے سیاست اور حکومت کے بھی ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے سچے خلفاء کی اللہ تعالیٰ نے یہ علامت بتائی کہ جس سیاست اور پالیسی کو وہ چلائیں گے اللہ تعالیٰ اُسے دنیا میں قائم فرمائےگا۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ ذاتی معاملات میں خلیفہ ٔ وقت سے کوئی غلطی ہو جائے لیکن ان معاملات میں جن پر جماعت کی روحانی اور جسمانی ترقی کا انحصار ہو اگر اُس سے کوئی غلطی سرزد بھی ہوتو اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کی حفاظت فرماتا ہے اور کسی نہ کسی رنگ میں اُسے اس غلطی پر مطلع کر دیتا ہے۔صوفیاء کی اصطلاح میں اسے عصمت صغریٰ کہا جاتا ہے۔گویا انبیاء کو تو عصمت ِ کبریٰ حاصل ہوتی ہے لیکن خلفاء کو عصمتِ صغریٰ حاصل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اُن سے کوئی ایسی اہم غلطی نہیں ہونے دیتا جو جماعت کے لئے تباہی کا موجب ہو۔اُن کے فیصلوں میں جزئی اور معمولی غلطیاں ہوسکتی ہیں۔مگر انجام کا ر نتیجہ یہی ہو گا کہ اسلام کو غلبہ حاصل ہو گا اور اُس کے مخالفوں کو شکست ہوگی۔گویا بوجہ اس کے کہ ان کو عصمتِ صغریٰ حاصل ہوگی۔خدا تعالیٰ کی پالیسی بھی وہی ہوگی جو اُن کی ہوگی۔بیشک بولنے والے وہ ہوںگے۔زبانیں انہی کی حرکت کریں گی۔ہاتھ انہی کے چلیں گے۔دماغ انہی کا کام کرےگا۔مگر ان سب کے پیچھے خدا تعالیٰ کا اپنا ہاتھ ہوگا اُن